کونسلرس کی دادا گری ، چند چیرمین کے چیمبر معمول وصولی کے مرکز ، سرکاری عملہ کی بھی سرپرستی
حیدرآباد ۔ 2 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : گریٹر حیدرآباد کے حدود میں واقع مضافاتی علاقوں میں بڑی تیزی سے ترقی ہورہی ہے ۔ بڑے پیمانے پر لے آوٹس قائم ہورہے ہیں اور ہمہ منزلہ عمارتیں تعمیر ہورہی ہیں ۔ اس کا چند میونسپل صدر نشین اور کونسلرس بیجا استعمال کررہے ہیں ’ چراغ رہنے تک سمیٹ لینے ‘ کی جو مشہور کہاوت ہے ۔ اسی کے مطابق شہر کے مضافات میں واقع ، نارسنگی ، منی کونڈہ ، دنڈیگل ، کوم پلی ، پداعنبر پیٹ ، ترکایمجال اور جل پلی میونسپلٹیز میں چند عوامی منتخب نمائندے من مانی کررہے ہیں ۔ جتنا مل سکتا ہے اس کو لوٹنے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں ۔ ان عوامی منتخب نمائندوں نے انتخابات میں خرچ کردہ رقم صرف ایک سال میں حاصل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر دوڑ دھوپ کررہے ہیں ۔ نارسنگی میں تمام سیاسی جماعتوں کے کونسلرس ہیں ۔ انتخابات کے دوران ایک دوسرے کے خلاف طاقت آزمائی کرنے والے قائدین اب سنڈیکٹ بنا کر کام کررہے ہیں ۔ کسی بھی عمارت کی تعمیر یا لے آوٹ کے پاس وہ نہیں جارہے ہیں لیکن مقام تک پہونچے بغیر اپنا معمول حاصل کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں ۔ اس کے لیے وہ پلاننگ شعبہ کے چند عملہ کی خدمات سے بھر پور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ پدا عنبر پیٹ میونسپلٹی کے ایک عوامی منتخب نمائندے کے قریبی رشتہ دار نے بغیر منظوری کے بفروزن میں ہی گودام تعمیر کردیا ۔ منی کونڈہ میونسپلٹی میں ایک کونسلر نے ڈیولپر کی تعمیرات میں حائل ہونے والی مندر کی دیوار کو منہدم کرادیا ۔ جس کی وجہ سے اس کونسلر پر مقدمہ بھی درج ہوا اور انہیں معطل کردیا گیا ۔ لیکن دوسرے کونسلرس بڑے پیمانے پر معمول وصول کرنے کی شکایت ہے ۔ جل پلی میونسپلٹی کے حدود میں پلاسٹک ، بیاٹری کمپنیوں کی اکثریت ہے اور ساتھ ہی کولڈ اسٹوریج بھی ہے ۔ کاٹے دان علاقہ میں موجود صنعتیں جل پلی علاقہ میں زیادہ تر بغیر منظوریوں کے قائم ہوئے ہیں ۔ تحفظات کی بنیاد پر چند میونسپلٹی کے صدور نشین کے عہدے خواتین کو حاصل ہوئے ہیں مگر وہ برائے نام چیرپرسن ہیں تمام سرگرمیاں ان کے شوہر یا بچوں کے علاوہ خاندان کے دوسرے ارکان انجام دیتے ہیں ۔ خاتون کونسلرس کا بھی یہی حال ہے ۔ سب کچھ ان کے شوہر یا خاندان کے دیگر ارکان انجام دے رہے ہیں ۔ اس طرح یہ مقامی عوامی منتخب نمائندے ہر معاملے میں من مانی کررہے ہیں ۔ چند صدر نشین ، چیرپرسن ، وائس چیرمین کے دفاتر میں ہی معمول تقسیم ہونے کی شکایتیں ہیں ۔ پارٹیوں کا جھنڈا الگ ہے ۔ مگر ان کے منتخب نمائندہ کا ایجنڈہ ایک ہی صرف ’ وصولی ‘ مگر آپس میں رقم برابر تقسیم ہورہی ہے ۔ اس معاملے میں سب ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں ۔۔ N