شہر کے میڈیکل ہالس کورونا ہاٹ اسپاٹ بن سکتے ہیں

   

غفلت خطرناک ثابت ہوسکتی ہے ۔ احتیاطی تدابیر بہرصورت اختیار کرنا انتہائی ضروری
حیدرآباد۔ شہر کے میڈیکل ہالس کورونا ہاٹ اسپاٹ بن سکتے ہیں۔ دونوں شہروں بالخصوص پرانے شہر میں میڈیکل ہالس پر غفلت انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ میڈیکل ہالس ایسی جگہ ہیں جہاں بیمار یا بیمار کے رشتہ دار آتے ہیں اسی لئے میڈیکل پر ماسک کے استعمال کے علاوہ سماجی فاصلہ کی برقراری کو یقینی بنانا چاہئے لیکن ایسا نہیں ہورہا اور کئی میڈیکل ہالس پر عوام ایک دوسرے کا خیال کئے بغیر اور بناء ماسک لگائے ادویات کی خریداری کر رہے ہیں جو نہ صرف ادویات دینے والے کیلئے خطرناک ہوسکتا ہے بلکہ آس پاس جو لوگ کھڑے ہیں ان کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب ہر دوسرے شخص کو کورونا کا مشتبہ مریض تصور کرکے ماسک اور سماجی فاصلہ اختیار نہیں کیا جاتا اس وقت تک کورونا کو پھیلنے سے روکنا ممکن نہیں ہوگا اسی لئے شہریوں کو چاہئے کہ وہ اپنی احتیاط خود کریں اور میڈیکل پر جمع ہونے والوں کو بھی چاہئے کہ وہ خصوصی احتیاط کریں کیونکہ میڈیکل پہنچنے والوں میں کئی ایسے افراد ہوسکتے ہیں جو مصدقہ یا مشتبہ مریض کے قریب ہوں یا وہ خود مشتبہ مریض ہوسکتے ہیں۔ ذمہ داروں کو چاہئے کہ وہ نہ صرف اپنی بلکہ گاہکوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں ۔ ماسک کے لزوم کے باوجود شہر میں کئی افراد یہ احتیاط نہیں کر رہے جبکہ احتیاط ملحوظ نہ رکھنا دوسروں کے ساتھ خود کو بھی مشکلات میں مبتلا کرنے کے مترادف ہے۔ محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ میڈیکل ہالس کو کورونا ہاٹ اسپاٹ بننے سے روکنے لازمی ہے کہ میڈیکل کے ذمہ داروں کے علاوہ گاہکوں کو لازمی احتیاط کروائیں اور ان لوگوں کو میڈیکل ہال کے قریب نہ آنے دیں جو ماسک استعمال نہیں کر رہے ہیں اور سماجی فاصلہ کی برقراری کو یقینی بنایاجائے کیونکہ اگر جہاں ادویات فروخت ہوتی ہیں کورونا کی وباء پھیلنے لگے گی تو اس کے سنگین نتائج کا خدشہ ہے اور اگر میڈیکل ہاٹ اسپاٹ بن جائیں جائیں تو شہریوں کیلئے ادویات کا حصول بھی بڑا مسئلہ بن جائیگا ۔