کورونا کیسیس کی تعداد کے پیش نظر فیصلہ ‘ ڈرون کیمروں سے نگرانی ۔ صرف ایمرجنسی میں باہر نکلنا ممکن
حیدرآباد ۔ /9 اپریل (سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد کے حدود میں کورنا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ کے بعد اس وباء کو کنٹرول کرنے 12 علاقوں کو کنٹینمنٹ کلٹرس قرار دے کر وہاں بڑے پیمانے پر تحدیدات عائد کردی گئیہیں ۔ ان علاقوں کی مکمل ناکہ بندی کرتے ہوئے کسی کو ان میں آنے اور کسی کو ان سے باہر جانے کی بھی اجازت نہیں دی جارہی ہے ۔ ڈرون کیمروں سے ان علاقوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جارہی ہے ۔ گھر گھر سروے کیا جارہا ہے ۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں تقریباً 180 کورونا وائرس کے پازیٹیو کیس برآمد ہوئے ہیں ۔ 89 پازیٹیو کیس جن علاقوں سے برآمد ہوئے ان میں چندرائن گٹہ ، سنتوش نگر، ملک پیٹ ، ریڈہلز ، یوسف گوڑہ ، راج گوپال پیٹ، شیخ پیٹ ، موسیٰ پیٹ ، کوکٹ پلی ، الوال ، چندا نگر ، میوری نگر ، گجولا رامارم اور قطب اللہ پور شامل ہیں ۔ کورونا وائرس کی وباء دوسرے علاقوں تک پھیلنے سے روکنے سخت اقدامات کئے جا رہے ہیں جو لوگ اس وباء سے متاثر ہوئے ہیں انہیں ان کے ارکان خاندان کے علاوہ ان سے رابطے میں رہنے والے افراد کو محفوظ رکھنے خصوصی منصوبہ بندی کرتے ہوئے اس کو عملی جامہ پہنایا جارہا ہے ۔ ناکہ بندی کے ذریعہ ان علاقوں کے عوام کو الگ تھلگ رکھنے کی حکمت عملی پر کام کیا جارہا ہے اور اس کیلئے خصوصی بندوبست کیا جارہا ہے ۔ سارے تلنگانہ میں کورونا وائرس کیلئے جی ایچ ایم سی کا علاقہ ہیڈکوارٹر بنا ہوا ہے ۔ 650 کیلو میٹر احاطے پر پھیلے اس شہر میں ہزاروں بستیاں اور کالونیاں موجود ہیں ۔ کورونا وائرس کا اثر چند مقامات پر زیادہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ 5 یا زائد پازیٹیو کیس والے 12 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ انکے علاوہ اطراف علاقوں میں وائرس کے خطرات کو محسوس کرکے اس کو وہیں روکنے کیلئے سخت تحدیدات عائد کی گئی ہیں ۔ ان 12 علاقوں کی حصاربندی کرکے عوام کی آمد و رفت پر پابندیاں عائد کی جارہی ہیں ۔ ایمرجنسی کے علاوہ دوسرے کاموں کیلئے گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں رہے گی ۔ فی الحال شہر میں لاک ڈاؤن پر عمل آوری کے باوجود کئی مقامات پر گاڑیوں کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری ہے ۔ ابتداء میں سختی سے پیش آنے والی پولیس اب نظر انداز کررہی ہے ۔ کنٹینمنٹ کلٹرس کی حیثیت سے جن علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے وہاں قانون و قواعد پر سختی سے عمل آوری کی جائے گی ۔ ایک عہدیدار نے بتایا کہ جن 12 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے وہاں کرفیو جیسا ماحول رہے گا ۔ تقریباً ایک کیلو میٹر تک موجود مکانات کا جی ایچ ایم سی ، محکمہ صحت ، پولیس ، محکمہ مال کے ملازمین پر مشتمل ٹیمیں دورہ کرتی رہیں گی ۔ مشتبہ افراد کورنٹائن سنٹرس کو منتقل کرتے ہوئے ان کا ٹسٹ کروایا جائیگا ۔ وائرس کے انسداد کیلئے سینیٹائزیشن کے ساتھ کیمیکل اسپرے کرایا جائے گا ۔ کمشنر جی ایچ ایم سی لوکیش کمار نے بتایا کہ حیدرآباد اور سائبرآباد پولیس کمشنرس اور دوسرے پولیس عہدیداروں سے تبادلہ خیال کے بعد ان 12 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ دہلی کے سفر سے واپس آنے والے 593 افراد کا ٹسٹ کروایا گیا ہے جن میں 63 افراد کا ٹسٹ پازیٹیو رہا ہے ۔ کمشنر بلدیہ نے بتایا کہ ان متاثرین کے رابطے میں رہنے والے مزید 45 افراد بھی متاثر ہوئے ہیں ان میں اکثریت ارکان خاندان کی ہے ۔ ماباقی ان کے دوست و احباب ہیں ۔ حیدرآباد سے دہلی اجتماع میں شرکت کرنے والے 603 افراد کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ ساتھ ہی گریٹر حیدرآباد حدود میں شامل اضلاع رنگاریڈی ، میڑچل سے چند افراد کی شرکت کی اطلاعات ہیں ۔ ان میں زیادہ تر کی نشاندہی کرکے کورنٹائن کیا گیا ۔ انکے ٹسٹ مکمل ہونے پر کتنے لوگ متاثر ہوئے ان سے رابطے میں آئے کتنے افراد متاثر ہوئے اس کا پتہ چلے گا ۔
