شہزادہ ولیم کا دورہ سعودیہ ، دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم

   

لندن،9 فروری (ایجنسیز) برطانوی شاہی خاندان کے ولیعہد شہزادہ ولیم کی پیرکے روز ریاض آمد کو برطانیہ اور سعودی عرب کی بادشاہتوں کے درمیان خصوصی اور دیرینہ تعلقات کی ایک بار پھر توثیق قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ تعلقات ملکہ الزبتھ دوم کے دورِ حکومت کے ابتدائی برسوں میں قائم ہوئے تھے اور وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتے چلے گئے۔ 43 سالہ شہزادہ ولیم کے لیے سعودی عرب کا یہ پہلا سرکاری دورہ نہ صرف سفارتی اہمیت رکھتا ہے بلکہ ذاتی طور پر بھی جذباتی نوعیت کا حامل ہے۔ وہ اپنی ماں شہزادی ڈیانا، پرنسز آف ویلز کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں، جنہوں نے 1986 میں اپنے شوہر پرنس چارلس کے ہمراہ مشرقِ وسطیٰ کے نو روزہ دورے کے دوران سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔ اس وقت شہزادہ ولیم محض تین سال کے تھے اور اپنی والدہ کے ہمراہ اس سفر میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ شہزادہ ولیم ماضی میں بھی مشرقِ وسطیٰ کا دورہ کر چکے ہیں۔ جون 2018 میں انہوں نے اسرائیل اور فلسطین کا تین روزہ دورہ کیا، جہاں انہوں نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامین نیتن یاہو اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے ملاقات کی۔ یہ برطانوی شاہی خاندان کے کسی سینئر رکن کا پہلا سرکاری دورہ تھا۔ اگرچہ برطانیہ نے اس دورے کو غیر سیاسی قرار دیا، تاہم شہزادہ ولیم نے فلسطینی عوام کو یہ یقین دہانی کرائی کہ برطانیہ نے انہیں فراموش نہیں کیا۔ کینسنگٹن پیلس کے مطابق شہزادہ ولیم کے سعودی عرب کے دورے کا مقصد تجارت، توانائی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کا فروغ ہے۔ یہ دورہ ریاض میں منعقد ہونے والے ورلڈ ڈیفنس شو کے موقع پر ہو رہا ہے، جسے آئندہ نسل کے ٹیمپیسٹ فائٹر طیارہ پروگرام میں سعودی شمولیت کی امیدوں سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ برطانیہ میں شاہی امور کے مبصرین کے مطابق یہ دورہ شہزادہ ولیم کی مستقبل کی بادشاہت کی تیاری کا ایک اہم مرحلہ ہے۔ ملکہ الزبتھ دوم کے 70 سالہ طویل دورِ حکومت کے بعد شاہ چارلس سوم کے تخت نشین ہونے کے ساتھ، شہزادہ ولیم اب عالمی سطح پر زیادہ نمایاں سفارتی کردار ادا کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔