شہزادی نیلوفر کی رعایا پروری ، نیلوفر ہاسپٹل کا قیام اہم کارنامہ

   

جمہوری دور حکومت میں اموات کو روکنے دواخانہ یا آکسیجن کی عدم سہولت
حیدرآباد۔ آصف جاہی حکمرانوں نے ہی نہیں بلکہ ان کے گھر کی خواتین نے بھی شہر حیدرآباد پر جو احسان کئے ہیں ان کو کوئی فراموش نہیں کرسکتا ۔ نواب میر عثمان علی خان کی بہوشہزادی نیلوفر جو کہ معظم جاہ بہادر کی اہلیہ تھیں اور ان کا تعلق سلطنت عثمانیہ سے تھا وہ انتہائی نرم دل تھیں اور عوام کے درد کو سمجھتی تھیں۔ 1949 میں شہزادی نیلوفر کی ایک خادمہ رفعت کا زچگی کے دوران مناسب طبی سہولتیں میسر نہ ہونے کے سبب انتقال ہوگیا تو وہ انتہائی دلبرداشتہ ہوگئیں اور انہوں نے فوری اس بات کا فیصلہ کیا کہ شہر حیدرآباد میں معیاری طبی سہولتوں کے ساتھ زچہ اور بچہ کے لئے دواخانہ کا قیام عمل میں لایا جائے ۔ شہزادی نیلوفر نے اپنی خادمہ کی موت کی وجہ سے ہونے والی تکلیف کو محسوس کرتے ہوئے 100 بستروں پر مشتمل دواخانہ کی تعمیر کا فیصلہ کیا اور اندرون 4سال اس دواخانہ کی تعمیر مکمل کرتے ہوئے دواخانہ کا آغاز کردیا گیا اور نامپلی کے علاقہ ریڈہلز پر آج بھی نیلوفر بچوں کا دواخانہ موجود ہے۔سلطنت آصفیہ کے دورحکومت کو مختلف گوشوں سے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اس دور میں جمہوریت نہیں تھی اور آصفیہ خاندان کی آمرانہ حکمرانی چلتی تھی لیکن اگر اس دور میں آمرانہ حکمرانی تھی اور اس خانوادہ میں ایسی بہو جو اپنی ایک خادمہ کی موت سے دلبرداشتہ ہوجائے اور دواخانہ تعمیر کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کرے کہ اب شہر حیدرآباد میں کسی اور کی موت ’’رفعت‘‘ کی طرح نہ ہو تو موجودہ جمہوریت سے وہ آمریت اچھی تھی ۔ریاست تلنگانہ اور شہر حیدرآباد میں کورونا وائرس کی وباء کے سبب سینکڑوں اموات واقع ہورہی ہیں اور بیشتر سیاسی جماعتوں کے کئی سرکردہ قائدین کے اپنے خانگی اور کارپوریٹ دواخانے موجود ہیں جہاں لاکھوں روپئے وصول کرتے ہوئے علاج کیا جا رہاہے لیکن یہ قائدین جمہوری طرز سے اقتدار حاصل کرنے والے ہیں جنہیں عوام کو جواب دینا ہوتا ہے لیکن جو لوگ آمریت چلا رہے تھے جن کی بادشاہت تھی اور ان سے کوئی سوال نہیں کیاجاسکتا تھا ان لوگوں کے لئے ایک موت سانحہ تھی لیکن جمہوری دور حکومت میں شمشان میں لکڑی کی قلت کو دور کرنے کیلئے 1000ٹن لکڑی کی سربراہی کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور اموات کو روکنے کیلئے کوئی دواخانہ یا آکسیجن کی فراہمی کے اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں۔ 1953میں خواتین اور اطفال کے لئے تعمیر کئے گئے نیلوفر دواخانہ کی تعمیر کی وجہ کا جائزہ لینے سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ اہل دل کون تھے!