شہزادی ڈائنا سے انٹرویو کیلئے بی بی سی صحافی کی ’دھوکہ دہی‘

   

Ferty9 Clinic

انگلینڈ: ایک آزاد کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بی بی سی کے صحافی مارٹن بشیر نے 1995 میں شہزادی ڈائنا سے دھماکہ خیز انٹرویو یقینی بنانے کیلئے ’ہتھکنڈے‘ اپنائے تھے۔ آزاد کمیشن نے جمعرات کے روز جاری اپنی انکوائری رپورٹ میں کہا ہے کہ بی بی سی کے صحافی مارٹن بشیر نے سن 1995میں شہزادی ڈائنا سے انٹرویو کو یقینی بنانے کے لیے ’دھوکہ دہی‘ سے کام لیا تھا۔ شہزادی ڈائنا نے اس انٹرویومیں یہ کہہ کر دھماکہ کردیا تھا کہ’’اس شادی میں تین لوگ ہیں۔‘‘اس انٹرویو میں شہزادی ڈائنا نے پہلی مرتبہ عوامی طورپر اور واضح انداز میں اپنی نا کام شادی کا ذکر کیا تھا۔ اس انٹرویو کو دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں نے دیکھا تھا جس نے برطانوی شاہی خاندان کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے‘‘ مسٹر بشیر نے نامناسب طریقہ اپنایا تھا اور کسی شخص کا انٹرویو لینے کے حوالے سے بی بی سی کی جو 1993 کی پروڈیوسرز گائیڈ لائنز ہیں ان کی سنگین خلاف ورزی کی تھی‘‘۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ انٹرویو کے وقت برطانوی نشریاتی ادارے نے ’’اپنی ‘دیانت داری اور شفافیت کے اعلیٰ میعار کو، جو اس کا طرّہ امتیاز ہے، برقرار نہیں رکھا‘‘۔اس انٹرویو میں جسے بی بی سی کے مشہور ‘پینورما‘ پروگرام میں نشرکیا گیا تھا، شہزادی ڈائنا نے کہا تھا ’’ہماری یہ شادی تین لوگوں کے درمیان ہے۔‘‘ ان کا اشارہ پرنس چارلس اور ان کی دیرینہ مسٹریس اور اب اہلیہ کامیلا پارکر باویلس کے درمیان غیر ازدواجی تعلقات کی طرف تھا۔شہزادی ڈائنا کے بھائی ارل اسپینسر نے شکایت کی تھی کہ بشیر نے شہزادی کو انٹرویو دینے پر آمادہ کرنے کے لیے فرضی دستاویزات کا استعمال کیا تھا اور دیگر ’ہتھکنڈے‘ بھی اپنائے تھے۔ اسپینسر نے الزام لگایا تھا کہ ان کی بہن تک رسائی حاصل کرنے کیلئے بشیر نے انہیں ڈائنا کے سابق پرائیوٹ سکریٹری پیٹرک جیفسن اور شاہی خاندان کے ایک دیگر فرد کی فرضی بینک دستاویزات دکھا کر ان کا اعتماد حاصل کیا۔
بشیر نے مبینہ طور پر بی بی سی کے ایک گرافک ڈیزائنر کو فرضی بینک دستاویزات تیار کرنے کا حکم دیا تھا تاکہ وہ یہ تاثر دے سکیں کہ وہ شہزادی ڈائنا کے خاندان کے قریبی لوگوں سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔