مساجد کی شہادت اور سیاسی حلقوں میں مذہبی حلقوں کے موقف کے پیش نظر مرکزی وزیر کشن ریڈی کی پہل
حیدرآباد۔7۔مارچ۔(سیاست نیوز) ریاستی حکومت کی جانب سے ویملواڑہ مندر کی توسیع کے لئے درگاہ حضرت سید باباتاج الدین باگ سوارؒ کی شہادت اور منتقلی کے علاوہ مسجد جاگیردار کی شہادت اور مسجد مولانا سداسیوپیٹ کی شہادت پر سیاسی حلقوں اور مذہبی حلقوں کے موقف کا جائزہ لینے کے بعد مرکزی وزیر کانکنی و کوئلہ مسٹر جی کشن ریڈی نے عنبر پیٹ فلائی اوور کی تعمیر کے لئے شہید کردہ مسجد یکخانہ کے ملبہ کو ہٹانے اور سروس روڈ کی تعمیر کو یقینی بنانے کے سلسلہ میں چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کو متوجہ کرواتے ہوئے مکتوب روانہ کیا ہے۔ ریاستی حکومت کی توجہ دہانی کے لئے روانہ کئے گئے مکتوب میں مسٹر جی کشن ریڈی نے چیف منسٹر کو بتایا کہ مذکورہ اراضی کے لئے معاوضہ جاری کیا جا چکا ہے اور معاوضہ کی اجرائی کے بعد منہدم کئے گئے مقام سے ملبہ کی منتقلی عمل میں نہ لائے جانے کے نتیجہ میں فلائی اوور کے نیچے موجود سروس روڈ کی تعمیر کے کام مکمل نہیں ہوپائے ہیں۔ انہو ںنے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کو بتایا کہ مرکزی وزیر نتن گڈکری نے مئی 2025 میں اس فلائی اوور کا افتتاح انجام دیا تھا لیکن اس کے باوجود اب تک فلائی اوور کے نیچے سڑک کو بہتر بنانے کے اقدامات نہیں کئے جاسکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ مقام کے لئے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے ذریعہ 2کروڑ54 لاکھ روپئے کی معاوضہ جاری کیا جاچکا ہے لیکن اس کے باوجود بعض درمیانی افراد کے علاوہ سیاسی طور پر اس جگہ پر تعمیری کاموں کو روکنے کی کوشش کی جار ہی ہے ۔ مرکزی وزیر نے ریاستی حکومت کو روانہ کئے گئے مکتوب میں چیف منسٹر سے خواہش کی کہ وہ فوری طور پر اس جگہ کو حاصل کرتے ہوئے ملبہ کی منتقلی اور سڑک کی تعمیر کے اقدامات کو یقینی بنائے تاکہ عنبر پیٹ فلائی اوور کے تعمیری کاموں کو مکمل کیا جاسکے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خود متعدد مرتبہ اس مسئلہ پر چیف منسٹر کی توجہ مبذول کرواچکے ہیں علاوہ ازیں مرکزی وزیر نتن گڈکری بھی تلنگانہ کے وزراء کو اس مسئلہ سے واقف کرواتے ہوئے اسے حل کرنے کے لئے کہہ چکے ہیں لیکن اس کے باوجود اب تک کوئی پیشرفت نہیں ہوپائی ہے۔3