شیخ ریاض انکاؤنٹر معاملہ کی تحقیقاتی رپورٹ میں تاخیر سنگین لاپرواہی

   

تلنگانہ اسٹیٹ ہیومن رائیٹس کمیشن کی برہمی ، انصاف فراہمی میں ڈی جی پی کی دانستہ رکاوٹ ، امجداللہ خان خالد کا الزام

متوفی کی اہلیہ اور والدہ کی جناب عامر علی خان سے ملاقات
نظام آباد۔ 20 جنوری ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) تلنگانہ اسٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن نے شیخ ریاض کے مبینہ فرضی انکاؤنٹر اور ان کے اہلِ خانہ پر تحویل کے دوران مبینہ تشدد کے معاملہ میں ڈائریکٹر جنرل آف پولیس، تلنگانہ کی جانب سے انکوائری رپورٹ داخل نہ کئے جانے کو سنگین لاپرواہی قرار دیتے ہوئے ایک مرتبہ پھر سخت ریمائنڈر جاری کیا ہے۔ اس سلسلہ میں ایم بی ٹی ترجمان امجد اللہ خان نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن کی بار بار ہدایات کے باوجود رپورٹ پیش نہ ہونا انصاف کی راہ میں دانستہ رکاوٹ کے مترادف ہے۔ کمیشن نے جسٹس شمیم اختر کی قیادت میں ازخود نوٹس لیتے ہوئے کیس نمبر 6745/2025 درج کیا تھا، جبکہ امجد اللہ خان کی درخواست پر کیس نمبر 6983/2025 اور متوفی کی والدہ زرینہ بیگم کی شکایت پر کیس نمبر 6947/2025 بھی زیرِ سماعت ہیں۔ٹی ایس ایچ آر سی میں منعقدہ سماعت کے دوران زرینہ بیگم، سانوبَر نازمین، امجد اللہ خان اور میر بشارت علی، صدر ایم بی ٹی نظام آباد ضلع ذاتی طور پر کمیشن کے روبرو پیش ہوئے۔ کمیشن نے اس امر پر شدید برہمی کا اظہار کیا کہ ڈی جی پی، تلنگانہ نے تاحال انکوائری رپورٹ داخل نہیں کی جس کے باعث کمیشن کو دوبارہ فوری تعمیل کی ہدایت جاری کرنی پڑی۔ امجد اللہ خان نے بتایا کہ ڈی جی پی کی جانب سے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کاماریڈی ضلع کو سونپی گئی انکوائری کے علاوہ ایک آزاد فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے بھی واقعہ کی جانچ کی تھی جس کی رپورٹ میں انکاؤنٹر کی صداقت پر سنگین سوالات اُٹھائے گئے اور متوفی کی عمر رسیدہ والدہ، اہلیہ اور کمسن بچوں پر تیسرے درجے کے تشدد کے الزامات درج ہیں تاہم اس رپورٹ کو حکومتِ تلنگانہ اور پولیس حکام نے نظرانداز کر رکھا ہے۔ امجد اللہ خان نے مزید کہا کہ 19؍ اکتوبر 2025 کو پیش آئے مبینہ انکاؤنٹر کے بعد انہوں نے متوفی کے اہلِ خانہ کے ساتھ 27 ؍اکتوبر کو ڈی جی پی سے ملاقات کر کے شفاف، غیرجانبدار اور آزادانہ جانچ کا مطالبہ کیا تھا، لیکن بعد ازاں جب وہ نظام آباد جانے کی کوشش کر رہے تھے تو اُنہیں نظر بند کر دیا گیا جو انصاف کے مطالبہ کو دبانے کی کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔ ایم بی ٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ انکوائری رپورٹ فوری طور پر ٹی ایس ایچ آر سی میں داخل کی جائے، فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ پر کارروائی ہو، غیر معمولی تاخیر کے ذمہ دار پولیس عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور فرضی انکاؤنٹر و تحویل کے دوران تشدد میں ملوث تمام اہلکاروں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں۔ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ مزید تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہوگی اور یہ تاثر مزید مضبوط کرے گی کہ سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔بعد ازاں یہ وفد نے نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب عامر علی خان سے ملاقات کی اور تفصیلات سے واقف کروایا واضح رہے کہ عامر علی خان نے شیخ ریاض کی اہلیہ اور والدہ کی مالی طور پر بھی امداد کی تھی۔