شیخ ریاض نے سونا رہن رکھ کر قرض کیوں حاصل کیا تھا ؟

   

تحقیقات میں جائزہ ضروری ، گرفتاری سے قبل تلاشی کیوں نہیں!
حیدرآباد۔21۔اکٹوبر(سیاست نیوز) پولیس انکاؤنٹر میں ہلاک شیخ ریاض نے خانگی فینانس کمپنی میں سونا رہن رکھ کر قرض کیوں حاصل کیا تھا ؟61 مقدمات میں وہ مطلوب تھا ۔ 50چوری کے علاوہ 2 رہزنی اور 5 چین اڑانے کے واقعات میں ملوث شیخ ریاض کو اپنے اہل خانہ بالخصوص ماں کا سونا رہن رکھوانے کی کیا ضرورت تھی ؟ ریاض تلنگانہ اور مہاراشٹرا میں 61 مقدمات میں ملوث ہونے کے باوجود جیل میں کیوں نہیں تھا ؟ جب اس کوگرفتار کیا گیا تھا تو معمولی ملزم کی طرح کیوں بائک پر لیجایا گیا؟شیخ ریاض کے انکاؤنٹر میں قتل کے بعد تحقیقاتی عہدیداروں کو چاہئے کہ وہ ان معامات کی بھی تحقیقات کریں اور اس بات کو منظر عام پرلایا جائے کہ آخر کس کو دینے کیلئے مقتول کی والدہ نے سونا رہن رکھ کر قرض لیا تھا۔انکاؤنٹر کے بعد پولیس کی تائید کرنے والوں کو چاہئے کہ وہ مقتول کے خاندان بالخصوص ماں اور بیوی سے ملاقات کرکے حقائق سے آگہی حاصل کریں کہ شیخ ریاض نے سونا رہن رکھواکر لی گئی رقم کسے دی تھی اور مابقی رقم کیلئے ریاض کو کون ہراساں کررہا تھا ۔ عہدیداروں کو چاہئے کہ وہ ریاض کے موبائیل فون سے وہ تفصیلات حاصل کریں کہ وہ کن لوگوں کے رابطہ میں تھا۔ حراست میں لینے سے قبل اس کی تلاشی کیوں نہیں لی گئی اور کیوں اسے موٹر سائیکل پر لیجایا جا رہا تھا ۔شیخ ریاض سابق میں 2 اقدام قتل کے مقدمات میں بھی ملوث تھا۔پولیس کانسٹبل کے قتل کے بعد ریاض کو جب دوبارہ حراست میں لیا گیا اور علاج کیلئے دواخانہ میں شریک کروایا گیا تو کیوں چوکس سیکیوریٹی دستہ کو ساتھ نہیں رکھا گیا جبکہ وہ کانسٹبل کا قتل کرچکا تھا اور کافی جدوجہد کے بعد اسے حراست میں لیا گیا تھا تو پولیس کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ اسے ہتھکڑیوں میں باندھ کررکھتی یا دواخانہ کے علحدہ گوشہ میں رکھا جاتا جہاں عام مریض موجود نہیںہوتے۔3