شیخ پیٹ سرائے ریزہ ریزہ ہونے کے دہانے پر

   

محفوظ یادگار عمارت کے تحفظ پر فوری توجہ دینے کی ضرورت
حیدرآباد ۔ 2 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : حیدرآباد میں کئی سرائے ( گیسٹ ہاوز ) کامپلیکسیس قطب شاہی اور نظام دور حکومت کے تھے ۔ لیکن ان میں کئی سرائے ان کی جانب سرد مہری کے نتیجہ میں تباہ ہوگئے ۔ جن میں صدیوں قدیم ایک دو منزلہ شیخ پیٹ سرائے تاریخی قلعہ گولکنڈہ سے چند کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے ۔ یہ سرائے نہایت خستہ حالت میں ہے اور اس کے فرسٹ فلور کے حصوں میں غار ہوگئے ہیں ۔ ہیرٹیج کے تحفظ میں دلچسپی رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اگر محفوظ یادگار عمارتوں پر توجہ نہیں دی گئی تو وہ تباہی کا شکار ہوں گے ۔ اس سے ریاستی حکومت کی غفلت کا اندازہ ہوتا ہے ۔ شہر آنے والے مسافرین کی سہولت کے لیے سولہویں صدی میں تعمیر کی گئی یہ سرائے بہت خراب حالت میں ہے ۔ اسے ایک مسجد اور مقبرہ سے متصل تعمیر کیا گیا تھا ۔ زیادہ تر لوگوں کو اب ان تاریخی عمارتوں کو پہنچاننے میں بھی مشکل پیش آرہی ہے ۔ شیخ پیٹ کی صفا جویریہ نے کہا کہ میں یہاں گذشتہ تین سال سے رہتی ہوں مجھے اس طرح کی یادگار عمارتوں کے بارے میں معلوم نہیں ہے ۔ اس سرائے کو بحال کیا جانا چاہئے اور اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہئے ۔ ہیرٹیج کے تحفظ کرنے میں دلچسپی رکھنے والوں کے مطابق شیخ پیٹ سرائے ایک دو منزلہ کمانوں والی عمارت ہے جس میں 16 کمرے اور ایک بڑا ہال موجود ہیں ۔ کمروں میں تین اشخاص کے رہنے کے لیے کافی جگہ ہے اور ان کی چیزوں کو رکھنے کے لیے شیلفس ہیں ۔ یہ گیسٹ ہاوز کامپلیکس قطب شاہی دور حکومت میں تعمیر کیا گیا تھا تاکہ اس وقت گولکنڈہ آنے والے مسافرین اور تاجرین کو سہولت ہو ۔ ہیرٹیج جہدکار محمد حبیب الدین نے کہا کہ یہ سرائے ایک محفوظ یادگار عمارت ہے ۔ اس پر ہیرٹیج ڈپارٹمنٹ کی جانب سے فوری توجہ کی ضرورت ہے ۔ کوئی بھی دیکھ سکتا ہے کہ اس پوری عمارت میں دیواروں پر شگاف ہوگئے ہیں اور دراڑیں پڑ گئی ہیں اور حالیہ بارش میں اسے مزید نقصان پہنچا ہے کیوں کہ پہلی منزل کے چھت پر غار پڑ گئے ہیں ۔ اس سرائے سے متصل مقبرہ اور ایک مسجد کو گرانائٹ پتھر سے تعمیر کیا گیا تھا ۔ چھت ، سلابس اور پلرس گرانائٹ کے ہیں اور یہ بھی خستہ حالت میں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ان یادگار تاریخی عمارتوں میں شگاف ہوگئے ہیں اور ایک بڑا گیاپ ہوگیا ہے ۔ چھت سے بڑے ٹکڑے گر رہے ہیں اور خود رو پودے اُگ آئے ہیں ۔ چند سال قبل محکمہ کی جانب سے اس کا حفاظتی کام بھی شروع کیا گیا تھا اور اسے بعد میں روک دیا گیا ۔ حکومت کو اس یادگار عمارت کے تحفظ کے لیے کچھ کرنا چاہئے ۔ شیخ پیٹ سرائے کامپلکس میں واقع مسجد اور اس سے متصل مقبرہ سے قطب شاہی دور کے نہایت عمدہ اور نفیس فن تعمیر کا پتہ چلتا ہے ۔ مسجد میں تین گنبد اور کمانیں ہیں ۔ جب کہ مقبرہ گرانائٹ عمارت ہے ۔ مقبرہ کے اندر اور اس کے بیرونی سطح پر عربی میں تحریریں کندہ ہیں ۔ جنہیں نقصان ہوا ہے اور بعض غائب ہوگئے ہیں ۔ مقبرہ میں قبر کو پوری طرح نقصان پہنچا ہے پتھر غائب ہیں ۔ اس سرائے کو قلعہ گولکنڈہ کے دروازوں کے باہر تعمیر کیا گیا تھا چونکہ قلعہ کے دروازوں کو شام میں بند کردیا جاتا تھا اور انہیں اگلی صبح ہی میں کھولا جاتا تھا اس لیے دیر سے آنے والوں کو ان سرایوں میں ٹھہرایا جاتا تھا ۔۔