شیخ پیٹ فلائی اوور پر اردو سائن بورڈس نہیں،اردو میں سائن بورڈس لگانے محبان اردو کا مطالبہ

   

حیدرآباد ۔ 28 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : ایک یا دو دن میں عوام کے لیے کھول دئیے جانے والے نئے تعمیر کردہ شیخ پیٹ فلائی اوور پر اردو زبان میں سائن بورڈس نہ ہونے پر شہر کے کئی محبان اردو نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ اس میں افتتاح کئے جانے والے دو نئے فلائی اوورس میں سنتوش نگر میں تعمیر کئے گئے فلائی اوور پر تمام تینوں زبانوں بشمول انگلش ، تلگو اور اردو میں سائن بورڈس لگائے گئے ہیں جب کہ شیخ پیٹ فلائی اوور پر اردو میں سائن بورڈس نہیں ہیں ۔ ایک سماجی کارکن محمد آصف حسین نے کہاکہ ’ شیخ پیٹ فلائی اوور حلقہ پارلیمان سکندرآباد میں آتا ہے جس کی نمائندگی بی جے پی کے ایک ایم پی کرتے ہیں ۔ ہم حکومت اور جی ایچ ایم سی سے درخواست کرتے ہیں کہ اس فلائی اوور پر بعجلت ممکنہ اردو میں سائن بورڈس لگائے جائیں ‘ ۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالانکہ اردو ریاست کی دوسری سرکاری زبان ہے لیکن اس کے باوجود اسے اس مقام حاصل نہیں ہورہا ہے ۔ اردو زبان کی ترقی و ترویج سے متعلق حکومت کے دعوے محض زبانی جمع خرچ معلوم ہوتے ہیں ۔ ان دعوؤں کو سچ ثابت کرنے کے لیے کئی ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ ایک ساٹھ سالہ شخص محمد یوسف الدین نے کہا کہ اردو زبان تلنگانہ میں زیادہ تر بولی جاتی ہے اور یہ زیادہ تر تلگو زبان سے ملی ہوئی ہے جس سے دکنی زبان بنی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’ اردو والے لوگ بھی اس فلائی اوور کا استعمال کرتے ہیں اور اس پر اردو میں سائن بورڈس نہ ہونے سے انہیں فلائی اوور کی روٹ کے بارے میں معلوم کرنا بہت مشکل ہوگا ۔ شیخ پیٹ فلائی اوور شہر میں ایک طویل ترین فلائی اوور ہے اور اس پر اردو میں سائن بورڈس ہونے چاہئے ‘ ۔ شیخ پیٹ ڈیویژن کے ریزیڈنٹ ویلفیر اسوسی ایشنس کے ممبر محمد سہیل نے کہا کہ حکومت کی جانب سے متعلقہ محکمہ جات کے عہدیداروں کو اس میں اردو زبان کو شامل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے لیکن بلدیہ نے اسے چھوڑ دیا ۔ اسوسی ایشنس نے حکومت اور متعلقہ محکمہ جات سے مطالبہ کیا کہ پندرہ دن کے اندر اس فلائی اوور پر اردو میں سائن بورڈس لگائے جائیں ورنہ شیخ پیٹ کی تمام 55 کالونیز کی اسوسی ایشنس کی جانب سے احتجاج شروع کیا جائے گا ۔۔