شیرنی کے حملہ میں دو قبائیلی نوجوان خود کو بچانے میں کامیاب

,

   

موضع کمارا ضلع کمرم بھیم میں موٹر سائیکل سوار نوجوان شیرنی کو دیکھتے ہی حواس باختہ

حیدرآباد۔ شیرنی کے حملہ سے دو قبائیلی نوجوانوں نے خود کو بچالیا لیکن شیرنی کو دیکھنے کے بعد وہ حواس باختہ ہوگئے تھے لیکن بعد ازاں ان نوجوانوں نے خود اسی مقام پر لیٹ گئے اور خود کو مردہ ظاہر کرنے لگے جس کے سبب شیرنی نے ایک میٹر کے فاصلہ سے انہیں سونگھنے کے بعد واپس ہوگئی ۔ضلع کمرم بھیم آصف آباد کے موضع کمارا گاؤں کے گھنے جنگلاتی علاقہ میں پیش آئے اس حادثہ کی محکمہ جنگلات کے عہدیداروں نے توثیق کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کی جانب سے جس مقام کی نشاندہی کی گئی ہے اس مقام پر شیرنی جسے K9 نام دیا گیا ہے اس کے پنجوں کے نشان پائے گئے ہیں۔ مذکورہ شیرنی چند عرصہ قبل مہاراشٹرا کے جنگلاتی علاقہ چندراپور سے یہاں پہنچی ہے ۔ایم مدھوکر اور کے پوچیا نامی نوجوان جو کہ اس جنگل سے گذر رہے تھے کہ اچانک شیرنی کو دیکھ کر اپنی موٹر سائیکل سے گرپڑے اور گرنے کے سبب انہیں زخم آئے ہیں اور انہوں نے فوری اپنے حواس پر قابو پاتے ہوئے جنگلی جانوروں سے بچاؤ کے قدیم روایتی طریقہ کار کو اختیار کرتے ہوئے فوری اسی مقام پر لیٹ گئے اور یہ ظاہر کرنے لگے کہ وہ مر چکے ہیں شیرنی نے ان نوجوانوں پر حملہ نہیں کیا بلکہ وہ ان خوفزدہ نوجوانوں کے قریب پہنچ کر انہیں سونگھنے کے بعد واپس چلی گئی ۔صبح 8:30 بجے پیش آئے اس واقعہ کے بعد مقامی عوام نے ان نوجوانوں کو عوامی صحت کے مرکز پہنچایا جہاں سے محکمہ جنگلات کو شیرنی کے دیکھے جانے کی اطلاع دی گئی ۔ محکمہ جنگلات کے عہدیداروں نے اطلاع موصول ہوتے ہی نوجوانوں سے تفصیلات حاصل کرنے کے بعد جائے حادثہ کا معائنہ کیا اور کہا کہ اس مقام پر K9 شیرنی کے پنجوں کے نشان دیکھے گئے ہیں اور ان نشانات کو اس علاقہ میں پہلی مرتبہ نہیں دیکھا گیا ہے بلکہ سابق میں بھی یہ نشانات دیکھے جاتے رہے ہیں۔ عہدیداروں نے بتایا کہ مہاراشٹرا کے جنگلاتی علاقہ سے اس علاقہ میں پہنچنے والے شیروں میں ایک شیر A1 بھی ہے جس کے پنجوں کے نشانات جنگلاتی علاقہ میں دیکھے گئے ہیں تاہم اب تک ان دونوں شیروں کی جانب سے کسی انسان کو نقصان پہنچائے جانے کی کوئی اطلاع نہیں ہے اور جو حادثہ پیش آیا ہے اس میں بھی نوجوانوں کے موٹر سائیکل سے گرنے کے سبب انہیں زخم آئے ہیں جبکہ شیرنی نے ان پر کوئی حملہ نہیں کیا بلکہ نوجوان اپنی حاضر دماغی کے سبب شیرنی کے امکانی حملہ میں محفوظ رہے ہیں اور انہیں دواخانہ میں مرہم پٹی کے بعد گھر روانہ کردیا گیا ہے۔