شیشے کے ٹکڑوں اور ٹوٹی چوڑیوں سے کے سی آر کے پورٹریٹ کی تیاری

   

Ferty9 Clinic

حیدرآبادی ماہر پکوان علی عادل کا کارنامہ ، چیف منسٹر سے ملاقات کی خواہش

حیدرآباد : یکم اگست (سیاست نیوز) شیشے اورکانچ کا ایک بہتر استعمال کیا جائے تو وہ ان مقامات پر چار چاند لگادیتے ہیں جہاں ان کا استعمال کیا گیا ہو مثال کے طور پر گھروں ، رہائشی مقامات ، ہوٹلوں ، مہمان خانوں ، شاہی دور کے محلات وغیرہ میں آپ نے شیشے کے غیر معمولی کام کا مشاہدہ کیا ہوگا جس میں شیشے کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں ، کانچ کی ٹوٹی پھوٹی چوڑیوں کا ماہرانہ انداز میں استعمال کیا گیا ۔ بہرحال ہمارے شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد میں ایسے ماہرین موجود ہیں جو اپنے فن کا ایسا مظاہرہ کرتے ہیں کہ دیکھنے والے دنگ رہ جاتے ہیں ایسی ہی شخصیتوں میں علی عادل بھی شامل ہیں جو کانچ کے ٹکڑوں اور ٹوٹی پھوٹی چوڑیوں کو استعمال کرتے ہوئے انہیں مختلف شخصیتوں کے پورٹریٹس میں تبدیل کردیتے ہیں ۔ سن سٹی حیدرآباد کے رہنے والے علی عادل پیشے کے لحاظ سے ایک ماہر پکوان (CHEF) ہیں جنہوں نے مدینہ میں 6 سال خدمات انجام دیں ۔ انڈین مغلائی ، چائینیز و دیگر انواع و اقسام کے پکوانوں کے ماہر علی عادل کو متحدہ عرب امارات کے دوبئی ، عمان اور پیرس میں خدمات انجام دینے کا موقع ملا ۔ علی عادل نے سب سے پہلے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خان کا پورٹریٹ بنایا ۔ مہاتما گاندھی ، نوبل لاریٹ رابندر ناتھ ٹیگور ، سابق وزیر آنجہانی راجیو گاندھی ، سابق صدرجمہوریہ گیانی ذیل سنگھ ، سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی ، صدر بی ایس پی مایاوتی اور چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کے پورٹریٹس بنائے ہیں ۔ راجیو گاندھی اور گیانی ذیل سنگھ سے شخصی طور پر ملاقات کرکے وہ پورٹریٹس انہیں پیش کئے ۔ اب تو راجیو گاندھی اور گیانی ذیل سنگھ تاریخ کا ایک حصہ بن گئے ہیں ۔ علی عادل نے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سے گریجویشن کیا اور اپنے والد کے ہمراہ حیدرآباد منتقل ہوئے ۔ انہوں نے 1985 ء میں کیٹرنگ میں ڈپلوما کیا ۔ ایک سوال کے جواب میں علی عادل نے بتایا کہ شاہ عبداللہ شاہ فیصل بے شمار سعودی شہزادوں ، دوبئی کے حکمراں شیخ محمد بن راشد المکتوم ، ڈاکٹر بی آر امبیڈکر ، جے آر ڈی ٹاٹا جیسی شخصیتوں کے پورٹریٹس بھی تیار کئے ۔ وہ چیف منسٹر کے سی آر کے ملاقات کرکے انہیں اپنا تیار کردہ پورٹریٹ پیش کرنا چاہتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں وزیر داخلہ محمود علی سے بھی ملاقات کی لیکن کے سی آر سے ملاقات کا انتظام نہیں ہوسکا ۔ ایسے میں انہوں نے دفتر سیاست سے رجوع ہوکر نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں سے ملاقات کرکے اپنے فن کے بارے میں واقف کروایا ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کے سی آر کا پورٹریٹ شخصی طور پر انہیں کیسے پیش کرتے ہیں ۔