آل انڈیا شیعہ آرگنائزیشن کے احتجاجی اجلاس سے علماء و دانشوروں کا خطاب
حیدرآباد۔/11 اگسٹ، ( راست ) مرکزی حکومت وقف ایکٹ میں ترمیم کے ذریعہ مسلمانوں کی لاکھوں ایکر وقف اراضیات کو چھیننے کی غرض سے وقف ایکٹ کو مکمل ترمیم کی سازش کے خلاف بطور احتجاج آل انڈیا شیعہ آرگنائزیشن کا اجلاس زیر صدارت میر ہادی علی صدر آل انڈیا شیعہ آرگنائزیشن عاشور خانہ زینبیہ روبرو حضرت عباس واٹر ٹینک‘ بالسٹی کھیت منعقد ہوا جس میں شیعہ اسکالر حجۃ الاسلام مولانا غلام عباس ، مولانا دلدار حسین عابدی(متولی عاشور خانہ حضرت قائم ) ، سید حامد حسین جعفری ( تلنگانہ شیعہ یوتھ کانفرنس )، میر حیدر علی جعفری ( صدر شیعہ اثناء عشری وقف پروٹیکشن فرنٹ ) ، سید عابد حسین نقوی ( شیعہ یونائٹیڈ فیڈریشن ) ، سید شمشیر حسین (سکریٹری انجمن گلشن حسینیہ ) ، رضا علی مرزا ( سکریٹری انجمن عون و محمد ) ، سید عابد حسین رضوی ( سکریٹری آل انڈیا شیعہ آرگنائزیشن) ، سید عامر حسین رضوی (سکریٹری محافظ شیعہ اوقاف ) سید وقار حسن رضوی ( نائب صدر امام باڑہ عاشور خانہ )، سید علی حیدر، مرزا یاور علی، مرزا صفدر علی بیگ (عاشور خانہ امام باڑہ رین بازار ) نے حصہ لیتے ہوئے متفقہ طور پر آل انڈیا شیعہ آرگنائزیشن کے احتجاجی اجلاس میں یہ طئے پایا کہ ایک محضر صدر جمہوریہ ہند، وزیر اعظم ہندوستان نریندر مودی ، مرکزی وزیر اقلیتی بہبود وقف ایکٹ ترمیمی بل جائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی کے ارکان اور گورنر تلنگانہ سے ملاقات کرتے ہوئے ریاست تلنگانہ کے ساتھ ساتھ سارے ہندوستان میں آباد کروڑہا شیعہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کے مجروح ہونے اور ان کی اوقافی جائیدادوں کو چھینے جانے کے خلاف علم میں لاتے ہوئے وقف ایکٹ ترمیم کو برخواست کرنے کا مطالبہ کریں گے۔