’’موگامبو خوش ہوا‘‘۔ امیت شاہ پر ادھو ٹھاکرے کا طنز
ممبئی : شیوسینا ادھو ٹھاکرے کے سرگراہ ادھو ٹھاکرے نے ‘ جن پارٹی کا نام اور انتخابی نشان الیکشن کمیشن نے چھین لیا ہے ‘ بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور خاص طور پر وزیر داخلہ امیت شاہ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’ موگامبو خوش ہوا ‘‘ ۔ ادھو ٹھاکرے نے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی نشانہ بنایا اور کہا کہ جب 1993 کے سلسلہ وار بم دھماکوں میں شیوسینکوں نے ممبئی کو بچایا تھا اس وقت آج ہندوتوا کی بات کرنے والے کہاں گئے تھے ؟ ۔ ان کا کوئی پتہ نہیں تھا ۔ اب یہ لوگ 56 انچ کا سینہ لے کر آگئے ہیں۔ اس وقت 56 انچ کا سینہ کہاں تھا ؟ ۔ وہ پسینہ پسینہ تھے ۔ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ ایک وقت تھا جب لوگ ریلیوں میں مودی کا نقاب پہنتے تھے ۔ اب خود مودی بال ٹھاکرے کے نقاب میں پناہ لینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کل کوئی ( امیت شاہ ) پونے آئے تھے ۔ وہ کہہ رہے تھے کہ مہاراشٹرا میں حالات کس طرح چل رہے ہیں۔ تب کسی نے کہا کہ یہ بہت اچھا دن ہے کیونکہ شیوسینا کا نام اور نشان ان غلاموں کو دیدیا گیا ہے جو ہمارے ساتھ آئے ہیں۔ تب انہوں ( امیت شاہ ) نے کہا کہ بہت اچھا ۔ موگامبو خوش ہوا ۔ ادھو ٹھاکرے ممبئی کے اندھیری میں عوامی جلسہ سے خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ آج کے دور کے موگامبو ہیں۔ اصلی موگامبو کی طرح یہ لوگ بھی ایک دوسرے سے لڑنا چاہتے ہیں تاکہ اقتدار کے مزے لیتے رہیں۔ انہوں نے انتخابی نشان سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلے کو اچھی چیز قرار دیا اور کہا کہ اس کی وجہ سے لوگ برہم ہوگئے ہیں۔ کمیشن نے انہیں اپنے ہی گھر سے باہر نکال دیا اور یہ فیصلہ چوروں کے حق میں دیدیا گیا ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر انہیں ایسا کرنے دیا گیا تو وہ کسی بھی دوسری پارٹی کے ساتھ بھی ایسا کرسکتے ہیں۔