کانگریس حکومت پر نظر رکھنے مرکز کا فیصلہ، اترپردیش اور مرکزی کابینہ میں خدمات کا وسیع تجربہ
حیدرآباد ۔6 ۔ مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ کیلئے اترپردیش سے تعلق رکھنے والے بی جے پی قائد شیو پرتاپ شکلا کو نیا گورنر مقرر کئے جانے کے بعد سیاسی حلقوں میں کہا جارہا ہے کہ بی جے پی کو مستحکم کرنے اور کانگریس حکومت پر نظر رکھنے کیلئے مرکز نے گورنر کو تبدیل کیا ہے۔ موجودہ گورنر جشنو دیو ورما کو مہاراشٹرا کا گورنر مقرر کیا گیا جن کا تعلق منی پور سے ہے۔ جشنو دیو ورما کو سوندرا راجن کے بعد تلنگانہ کا گورنر مقرر کیا گیا اور انہوں نے حکومت کے ساتھ بہتر روابط کو برقرار رکھا تھا اور کسی بھی مسئلہ پر حکومت سے ٹکراؤ نہیں ہوا۔ شیو پرتاپ شکلا کو ہماچل پردیش کے گورنر کے عہدہ سے تبادلہ کرتے ہوئے تلنگانہ کی ذمہ داری دی گئی۔ شیو پرتاپ شکلا کے تقرر کے بعد بی جے پی قائدین کا ماننا ہے کہ 8 ارکان پارلیمنٹ اور 8 ا رکان اسمبلی کے باوجود تلنگانہ میں بی جے پی تنظیمی طور پر مستحکم نہیں ہوئی ہے۔ پنچایت راج اور مجالس مقامی انتخابات میں پارٹی کا مظاہرہ مایوس کن رہا۔ بی جے پی کی ریاستی قیادت نے گورنر کی تبدیلی کی سفارش کی تھی تاکہ کانگریس حکومت کی مخالف عوام پالیسیوں پر نظر رکھی جاسکے۔ اترپردیش کے گورکھپور ضلع میں ردرا پور سے تعلق رکھنے والے شیوا پرتاپ شکلا کا جنم یکم اپریل 1952 کو ہوا۔ گورکھپور یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی تکمیل کی اور زمانہ طالب علمی سے ہی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے ۔ 1970 میں اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے ذریعہ سیاسی کیریئر کا آغاز ہوا ۔ 1975 میں ایمرجنسی کے دوران میسا قانون کے تحت 19 ماہ تک جیل میں رہے ۔ طلبہ تنظیموں میں سرگرم رول ادا کرنے کے بعد شیوا پرتاپ شکلا بی جے پی میں شامل ہوئے۔ 1989 سے 1996 تک گورکھپور اربن اسمبلی حلقہ کی نمائندگی کی۔ کلیان سنگھ ، رام پرکاش گپتا اور راج ناتھ سنگھ کی وزارت میں وزیر رہے۔ انہوں نے جیل ، قانون ، دیہی ترقی اور تعلیم جیسے قلمدانوں کی ذمہ داری سنبھالی۔ 2017 سے 2019 تک وہ نریندر مودی کابینہ میں مملکتی وزیر فینانس کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ فروری 2023 میں انہیں ہماچل پردیش کا گورنر مقرر کیا گیا۔ بی جے پی میں دیرینہ تجربہ کی بنیاد پر شیوا پرتاپ شکلا کو تلنگانہ کی ذمہ داری دی گئی ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ تلنگانہ حکومت کے مختلف فیصلوں کی منظوری کے سلسلہ میں نئے گورنر کا کیا موقف رہے گا۔ تلنگانہ حکومت کے کئی بلز اور گورنر کوٹہ کے تحت حکومت کی سفارش کردہ نام راج بھون میں منظوری کے منتظر ہیں۔1