شیوکمار کی گرفتاری کیخلاف احتجاجی جلوس، ہزاروں شریک

   

بنگلورو۔11 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) ہزاروں افراد جن کا تعلق وکالنگا طبقہ سے تھا، ایک احتجاجی جلوس چہارشنبہ کے دن سینئر کانگریس قائد ڈی کے شیوا کمار کی گرفتاری کے خلاف بطور احتجاج اور یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے نکالا اور کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ذات پات کی بنیاد پر یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ شہر میں ریاست کے مختلف علاقوں سے احتجاجی مظاہر پہنچ رہے تھے۔ خاص طور پر پرانی حکومت میسور میں وکالنگا طبقے کے مستحکم گڑھ سے آنے والے احتجاجیوں کی تعداد زیادہ تھی تاکہ وہ راج بھون چلو اپیل میں شرکت کرسکیں جس کی ان کے طبقے کی مختلف تنظیموں نے اپیل کی تھی۔ وکالنگا اور لنگایت دو غالب طبقات ریاست کرناٹک میں پائے جاتے ہیں۔ ایک بااثر کانگریسی قائد شیوکمار، سابق وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ انہیں 3 ستمبر کو ای ڈی نے مبینہ طور پر نقد رقومات کی غیر قانونی منتقلی کے مقدمے کے سلسلہ میں گرفتار کیا تھا اور اسی وقت سے وہ ای ڈی کی تحویل میں ہیں۔ احتجاجی جلوس نیشنل کالج میدان سے آزادی پارک تک نکالا گیا۔ بعدازاں راج بھون تک جلوس پہنچا اس کو اپوزیشن کانگریس اور جے ڈی ایس کی تائید حاصل تھی۔ پلے کارڈس، بینرس اور شیوکمار کے پوسٹرس تھامے ہوئے جلوسیوں نے بی جے پی مخالف نعرے بلند کیے۔ ہزاروں ملازمین پولیس جلوس کی گزرگاہ پر نظم و ضبط کی برقراری کو یقینی بنانے کے لیے تعینار کیے گئے تھے۔ زبردست ہجوم کی توقع کرتے ہوئے پولیس نے ٹریفک کے راستے تبدیل کردیے تھے لیکن اس کے باوجود سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کی وجہ سے ٹریفک متاثر ہوئی۔ ای ڈی نے شیوکمار کی بیٹی ایشوریا کو تفتیش کے لیے طلب کیا تھا۔ ان سے کہا گیا تھا کہ تحقیقاتی عہدیدار کے اجلاس پر 12 ستمبر کو حاضر ہوں۔ توقع ہے کہ ان کا بیان انسدادِ غیرقانونی منتقلی قانون کے تحت درج کیا جائے گا۔