شیو سینا (یو بی ٹی) میں ایک اور بڑی پھوٹ کا خدشہ

   

16 ایم ایل اے اور 6 ایم پیز ادھو ٹھاکرے کا ساتھ چھوڑ سکتے ہیں
ممبئی ۔16؍جون ( ایجنسیز)مہاراشٹرا کی سیاست میں ایک بار پھر بڑی ہلچل مچنے کے آثار ہیں۔ ذرائع کے مطابق شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) یعنی شیو سینا (یو بی ٹی) کے 14 سے 16 ارکانِ اسمبلی اور تقریباً 6 ارکانِ پارلیمنٹ (ایم پی) ایک ہفتہ کے اندر پارٹی سے الگ ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ بغاوت آئندہ چھ سے سات دنوں میں واضح ہو سکتی ہے۔شیو سینا پہلے ہی 2022 میں ایک تاریخی سیاسی بغاوت کا سامنا کر چکی ہے جب ایکناتھ شنڈے کی قیادت میں پارٹی کے بڑی تعداد میں اراکین نے ادھو ٹھاکرے سے بغاوت کر دی تھی۔ اس بغاوت کے نتیجے میں نہ صرف مہاوکاس اگھاڑی حکومت گر گئی تھی بلکہ شیو سینا بھی عملی طور پر دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی۔اس وقت ایکناتھ شنڈے نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے حکومت تشکیل دی تھی جبکہ ادھو ٹھاکرے کو اپنی سیاسی اور تنظیمی طاقت دوبارہ منظم کرنے کی جدوجہد شروع کرنا پڑی تھی۔اب اگر ایک اور گروپ پارٹی سے الگ ہوتا ہے تو یہ شیو سینا (یو بی ٹی) کی سیاسی حیثیت اور تنظیمی طاقت کیلئے سنگین چیلنج بن سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق ناراض اراکین کی تعداد اتنی ہو سکتی ہے کہ وہ پارٹی کے اندر ایک الگ سیاسی گروپ تشکیل دینے کی پوزیشن میں آ جائیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ بعض لیڈر موجودہ سیاسی صورتحال، انتخابی امکانات اور مستقبل کے اتحادوں کے حوالے سے اپنی حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں۔