صحافت پر سرکاری کارروائی حقیقت کی پوشیدگی کی کوشش

   

پرتاپ گڑھ: بی جے پی حکومت نے ملک میں ایک طرح سے ایمرجنسی نافذ کر دی ہے ، جو ان کی ناکامیوں پر سے نقاب اٹھا کر حقیقت کو اجاگر کرنے اور بولنے کی کوشش کرتا ہے ،اس کے خلاف ملک کے ساتھ غداری جیسی کارروائی حقیقت کو دبانے و چھپانے کے لیئے اب ملک کے چوتھے ستون پر سرکاری کارروائ کی جارہی ہے ،جو انتہائی قابل مذمت اور جمہوریت و آئین کے خلاف ہے ۔پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن نے میڈیا کو جاری بیان میں میڈیا پر مارے گئے انکم ٹیکس کے چھاپہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس کو حکومت کی تاناشاہی قرار دیا ۔ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے ۔چاروں جانب بھوک و بدعنوانی کا ماحول ہے ۔منہگائی عروج پر ہے ۔ملک کی زیادہ تر گودی میڈیا صرف حکومت کی چاپلوسی و عوام کو گمراہ کرنے کا کام کر رہی ہے ،جو میڈیا اس سے بچی اور حکومت کی پول کھول رہی ہے ،اس کی آواز کو دبانے کے لئے انکم ٹیکس کا چھاپہ ڈلوایا جارہا ہے ،تاکہ خوفزدہ ہوکر خاموش ہو جائیں ،اور ان کی گود میں بیٹھ جائیں ۔جن میڈیا گروپوں پر انکم ٹیکس کی کارروائ کی گئ ہے ،وہ خائف ہونے والے نہیں ،بلکہ ان کو جتنا دبایا جائے گا ،اتنی زیادہ طاقت کے ساتھ ان کی آواز بلند ہو کر عوام کے درمیان جائے گی ۔ کسان گزشتہ آٹھ ماہ سے دھرنے پر بیٹھے ہیں ،جن کو اعلانیہ طور سے مرکزی وزیر کے ذریعہ خالصتانی ،ملک دشمن و دہشت پسند بتا کر پروپگنڈہ کیا جارہا ہے ۔سچ بولنے والوں پر سرکاری شکنجہ کسا جارہا ہے ۔حق کی آواز کو دبانے کے لیئے اپوزیشن لیڈران کی جاسوسی ، فرضی مقدمات ،انکم ٹیکس کا چھاپہ ،انصاف پسند اخباروں و چینل کے دفتروں ، اور تجارتی اداروں پر پولیس و ای ڈی کی چھاپہ ماری اور ان کو خائف کرنے کیلئے غیرمہذب طور سے حملوں کی بوچھار یہی ثابت کرتی ہے کہ گزشتہ سات سال کی مدت سے صرف اور صرف اقتدار کے گھمنڈ کے نشہ میں صاحب اقتدار جماعت بی جے پی کے کچھ سینئر سیاست دانوں کی کارکردگی فرعونی ذہن و سوچ کی ضامن بنتی جارہی ہے۔
یہاں جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ ثابت کیا جارہا ہے ۔سرکاری ایجنسیز کو آگے لاکر عوام کے حقوق کو دبایا جارہا ہے ۔پیس پارٹی سچ کو اجاگر کرنے والی میڈیا کے ساتھ ہے ،اور کسی بھی غیر آئینی و غیر جمہوری کارروائ کی مذمت کرتی ہے ۔