صحافیوں ‘ سیاستدانوں وکارکنوں کے فونس کی جاسوسی ’ اسکینڈل ‘

   

قومی سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہونگے ۔ کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی کا رد عمل
نئی دہلی ۔ یکم نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی واڈرا نے آج کہا کہ اگر بی جے پی یا پھر حکومت نے صحافیوں ‘ وکلاء ‘ کارکنوں اور سیاستدانوں کے فونس کی جاسوسی کیلئے اسرائیلی ایجنسیوں کی خدمات حاصل کی ہیں تو یہ ایک اسکینڈل ہے اور اس کے قومی سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہونگے ۔ پرینکا نے یہ ریمارکس ایسے وقت میں کئے ہیں جبکہ واٹس اپ نے کہا تھا کہ ہندوستانی صحافیوںاور حقوق انسانی کارکنوں کی بھی کچھ نامعلوم ایجنسیوں کی جانب سے احاطہ کرتے ہوئے اسرائیلی جاسوسی سافٹ ویر کے ذریعہ جاسوسی کی گئی تھی ۔ پرینکا گاندھی نے اپنے ٹوئیٹ میں کہا کہ اگر بیج ے پی یا پھر حکومت کی جانب سے صحافیوں ‘ وکلاء ‘ کارکنوں اور سیاستدانوں کے فونس کی جاسوسی کرنے کیلئے اسرائیلی ایجنسیوں کا استعمال کیا گیا تھا تو یہ حقوق انسانی کی سنگین خلاف ورزی ہے اور یہ ایک ایسا اسکینڈل ہے جس کے قومی سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہونگے ۔ کانگریس جنرل سکریٹری نے کہا کہ وہ اس مسئلہ پر حکومت کے جواب کی منتظر ہیں۔ کانگریس نے کل ہی مودی حکومت کو اس مسئلہ پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور کہا تھا کہ حکومت جاسوسی کرتی ہوئی پکڑی گئی ہے ۔ اپوزیشن پارٹی نے مطالبہ کیا تھا کہ سیل فونس کی جاسوسی کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کروائی جائیں۔ اس مکمل تنازعہ کے دوران حکومت نے فیس بک کی ملکیت واٹس ایپ سے کہا تھا کہ وہ اس طرح کی جاسوسی کی وضاحت کرے اور ان اقدامات سے بھی واقف کروایا جائے جو کروڑہا ہندوستانیوں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے کئے گئے ہوں ۔ وزیر آئی ٹی روی شنکر پرساد نے کہا کہ حکومت ہندوستانی شہریوں کی پرائیویسی کی حفاظت کرنے کے عہد کی پابند ہے اور اس سلسلہ میں ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے ۔