صحافیوں کو آر ٹی سی ملازمین کے طرز پر احتجاج کرنے کا مشورہ

   

سکریٹریٹ میں صحافیوں کے داخلہ پر نمائندگی پر چیف سکریٹری ایس کے جوشی کا دوٹوک جواب
حیدرآباد۔11اکٹوبر(سیاست نیوز) ’’ میں تین ماہ میں وظیفہ پر سبکدوش ہونے والاایک ملازم ہوں جو احکام وصول ہوں گے انہیں قابل عمل بنانا میری ذمہ داری ہے‘‘ چیف سیکریٹری ڈاکٹر ایس کے جوشی نے صحافیوں کے وفدسے تلنگانہ سیکریٹریٹ میں داخلہ پر عائد کردہ پابندی پر کی جانے والی نمائندگی پر یہ کہتے ہوئے خود کوبے بسی اور لاچاری کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر ایس کے جوشی نے صحافیوں کو مشورہ دیا کہ آر ٹی سی ملازمین اپنے طریقہ سے احتجاج کرر ہے ہیں اسی طرح صحافیوں کو بھی اپنے انداز میں احتجاج کرنا چاہئے ۔سیکریٹریٹ کو بی آر کے بھون میں منتقل کئے جانے کے بعد اس عمارت میں صحافیوں کے داخلہ پر عائد امتناع کے خلاف صحافیوں کے وفد نے چیف سیکریٹری سے ملاقات کرتے ہوئے نمائندگی کی اور خواہش کی کہ وہ صحافیوں کے سیکریٹریٹ میں داخلہ پر عائد کردہ پابندی کو برخواست کرنے کے اقدامات کریں جس پر ڈاکٹر ایس کے جوشی نے کہا کہ وہ ایساکرنے سے قاصر ہیں کیونکہ انہیں حکومت کی جانب سے جو احکام موصول ہوئے ہیں وہ ان پر عمل کررہے ہیں اور بحیثیت ملازم ان کی ذمہ داری ہے کہ حکومت کی جانب سے جاری کئے جانے والے احکامات کو عملی جامہ پہنانے کے اقدامات کریں۔ صحافیوں کے وفد نے اس صورتحال کو صحافتی آزادی پر کاری ضرب قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری دفاتر میں صحافیوں کی آمد و رفت پر عائد کی جانے والی پابندی درست نہیں ہے ۔ صحافیوں کی جانب سے جب اسے آزادیٔ صحافت پر کاری ضرب قرار دیا گیا تو ڈاکٹر ایس کے جوشی نے واضح کیا کہ حکومت کے احکام ہیں اس میںوہ کچھ نہیں کرسکتے اسی لئے بس وہ اتنا کہیںگے کہ جس طرح آر ٹی سی ملازمین اپنے طریقہ سے احتجاج کر رہے ہیں اسی طرح صحافیوں کو بھی اپنے طریقہ سے جمہوری حق کا استعمال کرنا چاہئے ۔ واضح رہے کہ گذشتہ دنوں صحافتی آزادی کے سلسلہ میں کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم سی پی جے (کمیٹی ٹو پروٹیکشن جرنلسٹس ) کی جانب سے ٹی وی 9کے سابق سی ای او کی گرفتاری پر حکومت تلنگانہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ حکومت کے خلاف ویب سائٹ اور یو ٹیوب چیانل پر نشر کئے جانے والے انٹرویوز کی پاداش میں حکومت نے روی پرکاش کو نشانہ بنایا ہے ۔ اس عالمی تنظیم کی جانب سے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے بعد چیف سیکریٹری کا یہ کہنا ریاست میں صحافتی آزادی کے خطرہ میں ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔