تلنگانہ میں میڈیا کی آزادی خطرے میں، صحافیوں سے مجرموں جیسا سلوک کیوں، کے ٹی آر کا سوال
حیدرآباد۔ 14 جنوری (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ و سابق ریاستی وزیر کے ٹی آر نے تلنگانہ میں صحافیوں کی گرفتاری پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کانگریس حکومت پر میڈیا کو دھمکانے کا الزام عائد کیا۔ صحافیوں کی نصف شب میں گرفتاریوں کو ریاست میں جمہوری اقدار کیلئے خطرناک اشارہ قرار دیا اور کہا کہ یہ طرز عمل ایمرجنسی کے دنوں کی یاد دلاتا ہے۔ کے ٹی آر نے سوال کیا کہ صحافیوں کو بغیر نوٹس کے کیوں گرفتار کیا گیا ہے جبکہ ان معاملات میں کوئی بھی مقدمہ غیر ضمانتی نہیں ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ پوچھ تاچھ کیلئے نوٹس جاری کی جاسکتی ہے مگر اس کے بجائے ان کے گھروں پر جاکر رات دیر گئے گرفتار کرنا نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ قابل مذمت ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی کے دور حکومت میں میڈیا کی آزادی کو کچلا جارہا ہے اور پولیس صحافیوں کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کررہی ہے۔ کے ٹی آر نے تلنگانہ کے ڈی جی پی کے طرز عمل پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے صحافیوں اور ان کے ارکان خاندان کو خوفزدہ کیا جارہا ہے۔ اس تناظر میں کے ٹی آر نے کانگریس کے قائد راہول گاندھی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’محبت کی دکان‘‘ کے دعوے کرنے والی قیادت کو یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ تلنگانہ میں شہریوں کے حقوق کس طرح پامال کئے جارہے ہیں۔ کے ٹی آر نے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ تہوار کے موقع پر تین صحافیوں کی گرفتاری نہایت افسوسناک ہے اور وہ گرفتار صحافیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اس پورے معاملے میں اصل قصوروار کون ہیں۔ 2