صحافیوں کی دہشت گردوں کی گرفتاری قابل مذمت: ہریش راؤ

   

تہوار کے موقع پر نصف شب کو گھروں میں گھس کر گرفتار کرنا عوامی حکومت کو ذیب دیتا ہے کیا؟
حیدرآباد۔ 14 جنوری (سیاست نیوز) بی آر ایس کے رکن اسمبلی سابق وزیر ٹی ہریش راؤ نے صحافیوں کی گرفتاری پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور ڈی جی پی شیودھر ریڈی سے ٹیلی فون پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ صحافی ہے کوئی دہشت گرد نہیں۔ سنکرانتی تہوار کے موقع پر نصف شب کو دروازے توڑتے ہوئے کی گئی گرفتاری کی مذمت کی۔ ہریش راؤ نے کہا کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں دستوری اقدار اور قانون بھی کوئی معنی رکھتے ہیں۔ اگر کسی کو گرفتار کرنا ہے تو اس کے بھی قواعد ہیں جنہیں پولیس نے عجلت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گرفتار کیا ہے۔ وہ صحافی ہیں کوئی مجرم یا دہشت گرد ہرگز نہیں ہیں۔ ان کے خلاف اس طرح کا سلوک کیوں کیا گیا ڈی جی پی سے استفسار کیا۔ پولیس کی اس ظالمانہ کارروائی سے صحافیوں کے ارکان خاندان ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے ہیں۔ ہریش راؤ نے کہا کہ تہوار کے موقع پر گرفتاری غیر ضروری ہے۔ جن صحافیوں کو گرفتار کیا گیا ہے انہیں فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس سے قبل ہریش راؤ نے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس پر ریونت ریڈی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ اقتدار کے نشے میں صحافیوں سے انتقام لینے کا الزام عائد کیا ہے۔ سیاسی کھیل میں تحریک تلنگانہ کا حصہ رہنے والے صحافیوں کو بَلی کا بکرا بنایا گیا ہے۔ آدھی رات کو گھروں میں زبردستی گھس کر صحافیوں کو گرفتار کرنا غیر دستوری ہے اور وہ دستوری نظام پر ریونت ریڈی حکومت کا حملہ ہے۔ تلنگانہ کے عزت و نفس کے لئے کام کرنے والے صحافیوں کو چن چن کر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ہریش راؤ نے چیف منسٹر ریونت ریڈی سے استفسار کیا کہ کیا یہی عوامی حکومت ہے؟ گرفتار کئے گئے صحافیوں کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ 2