نئی دہلی، 12 اگست (یو این آئی) سپریم کورٹ نے منگل کو صحافی سدھارتھ وردراجن کو ’آپریشن سندور‘ سے متعلق خبروں کی بنیاد پر آسام پولیس کی جانب سے درج کیے گئے ایک معاملے میں عبوری راحت دی اور ان کے خلاف کسی بھی قسم کی تعزیری کارروائی پر روک لگا دی۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے اس معاملے میں مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے ۔ جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیہ باگچی کی بنچ نے یہ عبوری حکم فاؤنڈیشن فار انڈیپنڈنٹ جرنلزم اور وردراجن کی طرف سے دائر رٹ پٹیشن پر دیا۔ پٹیشن میں غداری کے قانون کی تعزیری دفعہ بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 152 کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے ۔ بنچ نے ان کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد راحت دی اور مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا۔ عدالت نے اس معاملے کو ریٹائرڈ میجر جنرل ایس جی وومبٹکرے کی ایک دیگر درخواست کے ساتھ منسلک کیا، جس میں بی این ایس کی دفعہ 152 کے جواز کو چیلنج کیا گیا ہے ۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بنچ کے سامنے دلیل دی کہ میڈیا کے لوگوں کو الگ زمرے کے طور پر نہیں سمجھا جا سکتا۔ بنچ نے یہ بھی کہا کہ جب جرم کسی نیوز میڈیم کے ذریعہ شائع شدہ مضامین سے متعلق ہو تو حراست میں پوچھ گچھ ضروری نہیں ہوسکتی ہے کیونکہ یہ ایسے معاملات ہیں جن میں حراستی پوچھ گچھ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ درخواست گزار کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ نتیا رام کرشنن نے دلیل دی کہ نیا التزام غیر واضح اور وسیع ہے اور اس سے میڈیا کے رپورٹنگ کے حق پر منفی اثر پڑنے کا امکان ہے ۔
عدالت نے یکم اگست کو بغاوت سے متعلق تعزیرات ہند کی دفعہ 152 (آئی پی سی کی دفعہ 124 اے کی جگہ لینے والے التزام) کے آئینی جواز کی جانچ کرنے پر8 اگست کو اتفاق کیا تھا۔