قبائل کے حقوق کی جدوجہد پر جھارکھنڈ کے روپیش کمار سنگھ کے خلاف مقدمات ، ملازمت سے محرومی کے باوجود رہائی کے لیے اہلیہ کی بے تکان مساعی
حیدرآباد ۔ 18۔ جولائی (سیاست نیوز) آدیواسیوں کے حقوق کے لئے جدوجہد کرنا جھارکھنڈ کے صحافی روپیش کمار سنگھ کو مہنگا ثابت ہوا اور ناقابل ضمانت دفعات کے تحت گزشتہ ایک سال سے انہیں جیل میں بند رکھا گیا ہے ۔ روپیش کمار سنگھ کی جیل میں محروسی کو ایک سال مکمل ہوگیا اور ان کی شریک حیات اپسا شتاکشی جیل کے باہر اپنے شوہر کی رہائی کیلئے قانونی جدوجہد کر رہی ہیں۔ شتاکشی کو شوہر کی رہائی کی جدوجہد میں اپنی ملازمت سے محروم ہونا پڑا اور گھر چلانے کیلئے بچوں کو ٹیوشن دینے پر مجبور ہیں۔ آدیواسی طبقات کی جدوجہد کی تائید کرنے پر شتاکشی کو خانگی اسکول میں ملازمت سے برطرف کردیا۔ 38 سالہ روپیش کمار سنگھ گزشتہ ایک سال سے جیل میں ہے۔ ابتداء میں انہیں رانچی کی جیل میں رکھا گیا تھا لیکن اب پٹنہ کی جیل میں بند ہے۔ شوہر کی رہائی کیلئے قانونی جدوجہد کے ساتھ ساتھ شتاکشی کو اپنے 6 سالہ فرزند اگرم کی تعلیم کے اخراجات کی تکمیل میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ نامساعد حالات کے باوجود شتاکشی نے ہمت نہیں ہاری اور شوہر کی رہائی کے لئے خود قانون کی تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ شتاکشی نے بی کام اور ایم کام کی تکمیل کی ہے اور فی الوقت قانون کی تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ انہوں نے اپنے شوہر کے عظیم پیشہ جرنلزم کے بنیادی نکات جاننے کیلئے فاصلاتی تعلیم کے ذریعہ جرنلزم کا کورس شروع کیا ہے۔ شتاکشی کو رام گڑھ جھارکھنڈ سے اپنے شوہر سے ملاقات کیلئے پٹنہ کی مسافت طئے کرنی پڑ رہی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ روپیش اور اپسا کے درمیان سوشیل میڈیا کے ذریعہ دوستی ہوئی اور 2016 میں ان کی شادی ہوئی۔ روپیش کمار سنگھ کو 17 جولائی 2022 کو جھارکھنڈ پولیس نے رام گڑھ سے گرفتار کیا تھا۔ وہ قبائلی علاقوں میں قدرتی وسائل کے استحصال اور قبائلیوں پر حملوں کے واقعات کے خلاف مسلسل رپورٹس شائع کر رہے تھے۔ انہیں 2019 میں پہلی مرتبہ یو اے پی اے قانون کے تحت گرفتار کیا گیا تھا ۔ بہار پولیس ان کے خلاف چارج شیٹ داخل کرنے میں ناکام رہی جس پر ڈسمبر 2019 میں ضمانت مل گئی۔ ایک سال بعد انہیں آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا اور وہ پٹنہ کے بیور جیل میں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ روپیش کو 4 کے منجملہ 2 مقدمات میں ضمانت حاصل ہوچکی ہے لیکن باقی دو مقدمات کے سبب وہ جیل میں ہے۔ صحافی کی حیثیت سے ان کی خدمات کے موقع پر بھی ان کا فون نگرانی میں رکھا گیا تھا ۔ روپیش کمار نے جھارکھنڈ اور بہار میں قبائل کے خلاف مظالم پر آواز اٹھائی تھی۔ شتاکشی نے انصاف کیلئے چیف منسٹر جھارھنڈ ہیمنت سورین کو مکتوب روانہ کیا لیکن چیف منسٹر کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا ہے ۔ انہوں نے ملک بھر کے تمام صحافیوں اور جہد کاروں سے اپیل کی ہے کہ وہ روپیش کمار سنگھ کی رہائی کیلئے جدوجہد کریں۔ 1