صحافی صدیق کپن کو سپریم کورٹ سے ملی ضمانت، یوگی حکومت ضمانت کی کر رہی تھی مخالفت

   

کیرالہ کے صحافی صدیق کپن کو سپریم کورٹ سے ضمانت مل گئی۔ اس معاملے کی سماعت چیف جسٹس یو یو للت اور جسٹس ایس رویندر بھٹ اور جسٹس پی ایس نرسمہا کی بنچ کر رہی ہے۔ ساتھ ہی یوپی حکومت نے کپن کی ضمانت کی مخالفت کی تھی۔ یوپی حکومت نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرتے ہوئے کہا کہ کپن کے انتہا پسند تنظیم پاپولر فرنٹ آف انڈیا سے قریبی روابط ہیں، جس کا ملک دشمن ایجنڈا ہے۔ صدیقی کپن ملک میں مذہبی انتشار اور دہشت پھیلانے کی ایک بڑی سازش کا حصہ ہے۔ کپن سی اے اے-این آر سی اور بابری اور ہاتھرس واقعہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر مذہبی جنون پھیلانے کی سازش کا ایک بڑا حصہ ہے۔ وہ ایس ایف آئی کے مالیاتی لانڈرر رؤف شریف کے ساتھ مل کر سازش کر رہے تھے۔