واشنگٹن: امریکی شہری منگل 3 نومبر کو کئی دہوں کے نہایت تلخ صدارتی انتخابات میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کررہے ہیں جبکہ موجودہ صدر ریپبلکن ڈونالڈ ٹرمپ کو ڈیموکریٹ جوبائیڈن کے چیلنج کا سامنا ہے۔ عالمی وبا کوویڈ۔19 کی دوسری لہر کی اطلاعات کے درمیان لگ بھگ 100 ملین (10 کروڑ) رائے دہندے عاجلانہ رائے دہی میں اپنے بیالٹس کا پہلے ہی استعمال کرچکے ہیں۔ اس طرح ملک ایک صدی کی تاریخ میں ووٹنگ کے اپنے اعظم ترین تناسب کی طرف گامزن ہے۔ اس مرتبہ تقریباً 239 ملین ووٹرس حق رائے دہی سے استفادہ کے اہل ہیں۔ ڈاک کے ذریعہ وصول ہونے والے بیالٹس کو بعض ریاستوں میں شمار کرنے کیلئے کئی دن یا ہفتے لگ سکتے ہیں۔ اس کا مطابق ہیکہ منگل کو چناؤ کے اختتام کے بعد چند گھنٹوں میں ونر کا اعلان ہونے والا نہیں ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق 4 ملین ہندوستانی امریکی آبادی ہے جن میں سے تقریباً 2.5 ملین نومبر 2020ء کے صدارتی انتخابات کے لئے اہم ووٹرس ہیں۔ زائد از 1.3 ملین ہندوستانی امریکی کلیدی سیاسی اہمیت کی حامل ریاستوں کے ووٹرس ہیں جیسے ٹیکساس، مشیگن، فلوریڈا اور پنسلوانیا۔ وسکانسن اور پنسلوانیا جیسی کلیدی ریاستوں میں خاص طور پر پولنگ اسٹیشنوں کے پاس سینکڑوں افراد کو قطاروں میں دیکھا گیا۔ پولنگ کی شروعات کا وقت ریاست در ریاست مختلف ہے جس کا بنیادی سبب مختلف ٹائم زون ہے۔ مشرقی ساحل والے لوگوں نے پولنگ اسٹیشنوں کی طرف صبح سویرے رخ کیا جہاں کئی ریاستوں میں تقریباً 6 بجے (ہندوستانی وقت 4:30 بجے شام) رائے دہی شروع ہوگئی۔ ان ریاستوں میں ورجینیا، نیویارک، نیوجرسی اور مین شامل ہیں۔ کیلیفورنیا میں پولنگ صبح 7 بجے (انڈین ٹائم 8:30 بجے شب) شروع ہوئی۔ ٹرمپ نے انتخابی ریالیوں میں اپنے جوش و خروش اور ہلکے پھلکے رقص پر مبنی مختصر ویڈیو کو ٹوئیٹ کرتے ہوئے امریکیوں سے اپیل کی کہ انہیں ووٹ دیں۔ بائیڈن نے بھی ٹوئیٹ کرتے ہوئے عوام سے ان کے حق میں ووٹ استعمال کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ آج الیکشن کا دن ہے۔ پولنگ اسٹیشن جائیں اور ووٹ ڈالیں۔ بائیڈن کی نائب صدارتی امیدوار کملاہیریس نے ووٹروں سے اپیل کی کہ اپنے اور اپنے ووٹ کے درمیان کسی بھی بات کو حائل نہ ہونے دیں۔ انتخابی ماہرین کا کہنا ہیکہ پولنگ کا تناسب انتخابی نتائج میں کلید ثابت ہوگا۔ اخبار ’دی ہل‘ کے مطابق وائیٹ ہاؤس کیلئے کلید پانچ ریاستوں پنسلوانیا، وسکانسن، جارجیا، نارتھ کیرولینا اور اریزونا کے انتخابی نتائج پر منحصر ہے۔ پولنگ کی شروعات تک کے مختلف سروے میں بائیڈن کو سبقت بتائی گئی۔ تاہم ، امریکی انتخابات کا تعین قومی سطح پر عوامی رائے دہی سے نہیں بلکہ 538 رکنی الیکٹورل کالج کے ذریعہ ہوتا ہے جہاں ہر امیدوار کو صدارت پانے کیلئے 270 کی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ 74 سالہ ٹرمپ کو 77 سالہ حریف بائیڈن سے سخت مسابقت درپیش ہے۔