دروپدی مرمو اور یشونت سنہا کے انتخابی مقابلہ میں کراس ووٹنگ اور غیر حاضری
نئی دہلی : ہندوستان کے پندرہویں صدرجمہوریہ کے انتخاب کیلئے آج ووٹنگ منعقد کی گئی۔ یہ این ڈی اے کی دروپدی مرمو اور اپوزیشن کے یشونت سنہا کے درمیان انتخابی مقابلہ ہے۔ یہ انتخابی مسابقت ظاہر طور پر این ڈی اے کی امیدوارہ کے حق میں واضح نتیجہ بتائی جارہی ہے ۔ اُنھیں این ڈی اے کے علاوہ دیگر کئی پارٹیوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ایک کانگریسی کے بشمول کئی ایم ایل ایزنے باقاعدہ دعویٰ کیاکہ اُنھوں نے این ڈی اے امیدوار کو ووٹ دیا ہے۔ صدارتی انتخاب میں کوئی پارٹی وہپ جاری نہیں کیا جاسکتا۔ آج کی ووٹنگ میں ایک مرکزی علاقہ کے بشمول 11 ریاستوں چھتیس گڑھ، گوا، گجرات، ہماچل پردیش، کیرالا، کرناٹک، مدھیہ پردیش،منی پور ، پڈوچیری، سکم، میزورم اور ٹاملناڈو نے 100 فیصد پولنگ درج کرائی۔ پیر کو پارلیمنٹ ہاؤز میں منعقدہ پولنگ آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انداز میں تکمیل پائی۔ بیک وقت 30 ریاستی قانون ساز اسمبلیوں بشمول قومی مرکزی علاقہ دہلی اور مرکزی علاقہ پڈوچیری کی قانون ساز اسمبلی میں بھی پولنگ منعقد کی گئی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق جملہ 771 ایم پیز کو ووٹ دینے کا حق حاصل تھا، جن میں سے 5 مخلوعہ ہیں۔ اور اِسی طرح سے قانون ساز اسمبلیوں کے جملہ 4,025 ارکان ووٹ دینے کے اہل قرار پائے۔ اِن میں سے 6 مخلوعہ ہیں اور 2 نااہل درج ہیں۔ بحیثیت مجموعی زائداز 99 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ ووٹ ڈالنے والے پارلیمنٹرینس کی تعداد 728 ہے جن میں وزیراعظم نریندر مودی اور سابق وزیراعظم منموہن سنگھ شامل ہیں۔