صداقت نامہ آمدنی کا حصول مشکل ، درخواست گذاروں اور طلبہ کو تکلیف کا سامنا

   

اسکالر شپس کے لیے ادخال درخواست میں مشکلات ، سینکڑوں درخواستیں زیر التواء
حیدرآباد۔3جنوری(سیاست نیوز) صداقت نامہ آمدنی کا حصول انتہائی دشوار کن ہوتا جا رہاہے اور پرانے شہر کے تحصیل داروں کی جانب سے صداقت نامہ ٔ آمدنی کی اجرائی میں کی جانے والی تاخیر سے طلبہ ‘ والدین‘ سرپرستوں کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ بہادر پورہ منڈل کے علاوہ چارمینار اور بندلہ گوڑہ منڈل سے روزانہ سینکڑوں شکایات موصول ہورہی ہیں ان تحصیلداروں کے دفاتر سے صداقت نامۂ آمدنی کی اجرائی کے سلسلہ میں کئے جانے والے ٹال مٹول کے سبب طلبہ اسکالر شپس کی درخواست داخل کرنے سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ رہنمایانہ خطوط کے مطابق اندرون 15 یوم صداقت نامہ ٔ آمدنی ‘ صداقت نامہ ٔ رہائش اور دیگر کی اجرائی عمل میں لائی جانی چاہئے لیکن ان تحصیل دفاتر میں ایک مہینہ سے زائد پرانی درخواستیں بھی زیر التواء ہیں اور کہا جا رہاہے کہ ان درخواستوں کی یکسوئی کیلئے عملہ موجود نہیں ہے۔ محکمہ مال کے عہدیداروں نے بتایا کہ اسکالر شپس کے لئے تاریخ کے اعلان کے ساتھ ہی درخواستوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اسی لئے محکمہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن اس کے باوجود بھی اس بات کی کوشش کی جا تی ہے کہ جلد از جلد اجرائی عمل میں لائی جائے ۔ حکومت کی جانب سے صداقت نامۂ آمدنی کی درخواست کے ادخال کیلئے تیار کئے گئے اصولوں کے مطابق عوام کو دفاتر کے چکر کاٹنے کی ضرورت ہی نہیں ہے بلکہ وہ کسی بھی مقام سے می ۔سیوا اور ٹی ۔سیوا کے ذریعہ اپنی درخواست داخل کرسکتے ہیں لیکن پرانے شہر کے مذکورہ تحصیل دفاتر کی حالت دیگر تحصیلداروں کے دفاتر سے کچھ ہٹ کر ہے اور ان لوگوں کی جانب سے عوام کو دفاتر طلب کرتے ہوئے ان کے صداقت ناموں کی اجرائی کا کام انجام دیا جا رہاہے اور ان میں بیشتر ان لوگوں کے کام ہونے لگے ہیں جنہوں نے درمیانی افراد کی مدد سے درخواستیں داخل کی ہیں جبکہ ان کی درخواستیں اب تک بھی زیر التواء ہیں جنہوں نے اپنی صلاحیت سے راست درخواست داخل کررکھی ہیں۔ان درخواست گذاروں کا کہناہے کہ ان کے بعد داخل کی جانے والی درخواستوں کی یکسوئی ہونے لگی ہے لیکن ان کی درخواستوں کو زیر التواء رکھنے کے سبب وہ دفتر کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔