صدرمنتخب ہونے پر کھرگے کو سونیا گاندھی کی مبارکباد

,

   

نئی دہلی : نومنتخب صدر آل انڈیا کانگریس کمیٹی ملک ارجن کھرگے سے ان کی رہائش گاہ پہنچ کر کانگریس پارٹی کی صدارت سے سبکدوش ہونے والی سونیا گاندھی اور ان کی دختر پرینکا گاندھی نے ملاقات کی۔ اس موقع پر کھرگے کی اہلیہ رادھا بائی کھرگے بھی موجود تھیں۔ سونیا گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا نے صدر منتخب ہونے پر ملک ارجن کھرگے کو مبارکباد دیتے ہوئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ اس انتخاب میں کامیابی کیساتھ ہی ملک ارجن کھرگے کانگریس کے قومی صدر بننے والے 65 ویں لیڈر بن گئے ہیں اور کانگریس کے صدر بننے والے تیسرے دلت رہنما ہیں۔اس سے قبل بابو جگجیون رام اور سیتا رام کیسری کانگریس کے صدر بننے والے دلت رہنما تھے۔آزادی کے بعد پارٹی کی قیادت 75 سال میں 42 سال تک گاندھی خاندان کے پاس رہی۔اس کے ساتھ ہی 33 سال تک پارٹی صدر کی باگ ڈور گاندھی خاندان کے علاوہ دیگر لیڈروں کے پاس رہی۔
بھارت جوڑو یاترا میں مصروف راہول گاندھی نے آج آندھراپردیش میں پریس کانفرنس سے خطاب میں ووٹوں کی گنتی سے قبل کے درمیان کہا کہ اب کھرگے جی پارٹی میں میرا رول بھی طئے کریں گے۔راہل گاندھی نے کہا کہ کانگریس واحد پارٹی ہے جس میں الیکشن ہوتے ہیں اوراس کا اپنا الیکشن کمیشن ہے۔کانگریس پارٹی کے نومنتخب صدر و سینئر پارٹی لیڈر ملک ارجن کھرگے،جن کا تعلق کرناٹک سے ہے واضح طور پر ترجیحی امیدوار کے طور پر سامنے آئے تھے۔موجودہ حالات میں یہ طئے مانا جارہا تھا کہ ملک ارجن کھرگے صدر کل ہند کانگریس کمیٹی منتخب ہوسکتے ہیں۔اس کے لیے انہوں نے پرچہ نامزدگی کے ادخال کے بعد راجیہ سبھا کے قائد اپوزیشن کی حیثیت سے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔اس عہدہ سے استعفیٰ کے بعد اس بات کو مزید تقویت حاصل ہوگئی تھی کہ 80 سالہ سینئر کانگریسی رہنما کا صدر کل ہند کانگریس کمیٹی بننا طئے ہے۔اپنے استعفیٰ کے بعد انہوں نے سابق صدر کانگریس سونیا گاندھی سے کہاکہ وہ ادے پور چنتن شیویر میں اعلان کردہ کانگریس کے’’ایک شخص،ایک عہدہ’’ کے اصول کے مطابق ایوان بالا میں اپناعہدہ چھوڑ رہے ہیں۔کنڑا،اردو،ہندی اور انگریزی سے بہترین واقفیت رکھنے والے اور عوامی لیڈر کی پہچان کے حامل ملک ارجن کھرگے 21 جولائی 1942ء￿ کو وراوٹی ،بھالکی تعلقہ،ضلع بیدر،کرناٹک میں منپا کھرگے اور سبوا کے گھر پیدا ہوئے۔ملک ارجن کھرگے نے نوتن ودیالیہ گلبرگہ سیاپنی ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کی۔گورنمنٹ ڈگری کالج گلبرگہ سے بی اے کی تکمیل کے بعد انہوں نے سیٹھ شنکر لاہوٹی لا کالج گلبرگہ سے قانون کی سند لی۔ملک ارجن کھرگینیجسٹس شیوراج پاٹل کیجونیئر کی حیثیت سے قانونی تربیت حاصل کی وہ زیادہ تر لیبر یونین کے کیس لڑا کرتے تھے۔ملک ارجن کھرگے کالج میں تعلیم کے دوران اسٹوڈنٹ یونین لیڈر کیطورپر سیاست میں داخل ہوئیاور طلبہ یونین کیجنرل سیکریٹری منتخب ہوئے۔مزدور سنگھ کے صدر رہ کر جدوجہد میں حصہ بھی لیا۔بعدازاں کھرگے 1972 میں کرناٹک کے اسمبلی حلقہ گرمٹکال سے منتخب ہوگئے اس طرح سیاست میں ان باقاعدہ داخلہ ہوگیا۔بعدازاں 1978 کے انتخابات میں بھی وہ گرمٹکال سے کامیاب ہوئے۔اور دیوراج ارس کی کابینہ میں رورل ڈیولپمنٹ وپنچایت راج کے وزیر بنائے گئے۔1983 کے انتخابات میں اور پھر 1985 میں بھی ملک ارجن کھرگینے گرمٹکال سے چوتھی مرتبہ کامیابی حاصل کی۔بعدازاں 1990میں بھی کھرگے اسی اسمبلی حلقہ گرمٹکال سے پانچویں مرتبہ کامیابی حاصل کی اور بنگارپا کابینہ میں وزیر مال ،رورل ڈیولپمنٹ و پنچایت راج بنائے گئے۔جبکہ 1999میں بھی ملک ارجن کھرگے نے گرمٹکال اسمبلی حلقہ سے چھٹی مرتبہ لگاتار کامیابی حاصل کرتے ہوئے ڈبل ہیٹ ٹریک کی۔اور کرناٹک اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بنائے گئے۔ملک ارجن کھرگے نے مزید دو مرتبہ گرمٹکال حلقہ سے کامیاب ہوکر 7 مرتبہ ایک ہی حلقہ سے منتخب ہونے کا ریکارڈ بنایا۔وہ چیف منسٹر کرناٹک کی ریس میں شامل تھے تاہم ایس ایم کرشنا کی وزارت میں وزیر داخلہ بنائے گئے۔بعدازاں ملک ارجن کھرگے 2008 میں حلقہ اسمبلی چیتا پور سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ 2009 کے عام انتخابات میں ملک ارجن کھرگے حلقہ لوک سبھا گلبرگہ سے منتخب ہوکر قومی سیاست میں داخل ہوئے۔مودی لہر کے دؤران 2014 کیعام انتخابات میں ملک ارجن کھرگے دوبارہ گلبرگہ لوک سبھاحلقہ پر اپنا قبضہ قائم رکھا۔انہیں لوک سبھا میں کانگریس نے قائد اپوزیشن کی ذمہ داری بھی تفویض کی۔ملک ارجن کھرگیمنموہن سنگھ کی کابینہ میں 2009 تا 2013 وزیر لیبر و ایمپلائمنٹ اور 2013 سے 2014 تک مرکزی وزیر ریلوے کے عہدہ پر فائز رہے۔تاہم ملک ارجن کھرگے کو 2019 کے عام انتخابات میں اسی گلبرگہ لوک سبھا حلقہ سے بی جے پی کے امیدوار جی جادھو سے مقابلہ میں 95,452 ووٹوں کے فرق سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔جبکہ پانچ سالہ معیاد کے دؤران کھرگے نے اپنے حلقہ لوک سبھا گلبرگہ کو بہترین ترقی دی تھی۔اس کے بعد کانگریس نے 2012 میں ملک ارجن کھرگے کو کرناٹک سے ہی راجیہ سبھا روانہ کیا۔سیاسی حلقوں میں ایسا مانا جارہا ہے کہ ملک ارجن کھرگے اپنے سیاسی تجربہ اور بے داغ شخصیت کے ذریعہ کانگریس کو مضبوط بنائیں گے اور اس کی اہم طاقت مانے جانے والے مسلم اور دلت طبقات کے علاوہ دیگر طبقات کو کانگریس کے قریب کریں گے۔یہ آنے والا وقت ہی بتاسکتا ہے۔!!