صدرنشین اردو اکیڈیمی اور دو عہدیداروں کے دورۂ دہلی پر رپورٹ طلب

   

Ferty9 Clinic

کورونا وائرس کے شبہات کے تحت کارروائی، سکریٹری اقلیتی بہبود نے رپورٹ پیش کردی
حیدرآباد۔یکم اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے جاریہ ماہ اردو اکیڈیمی کے صدرنشین اور دو عہدیداروں کے دورہ دہلی پر کڑی نظر رکھی ہے تاکہ کورونا وائرس کے اثرات کا پتہ چلایا جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف سکریٹری سومیش کمار نے تینوں افراد کے دورۂ دہلی کے بارے میں سکریٹری اقلیتی بہبود احمد ندیم سے رپورٹ طلب کی ہے۔ چیف سکریٹری نے کہا کہ اگر نئی دہلی میں تبلیغی اجتماع کی تاریخوں کے دوران یہ افراد دہلی میں تھے یا پھر ان میں سے کسی نے نظام الدین علاقے کا دورہ کیا تو انہیں لازمی طور پر کورنٹائن میں رہنا ہوگا اور ضرورت پڑنے پر ان کی جانچ بھی کی جاسکتی ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے دورۂ دہلی کے بارے میں ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی محمد غوث سے تفصیلات حاصل کیں۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہلی میں تین روزہ قیام کے دوران اگر کسی نے نظام الدین علاقے کا دورہ کیا ہے تو اس کا انکشاف کیا جائے۔ انہوں نے ڈائرکٹر اکیڈیمی کو سختی کے ساتھ حقیقی صورتحال اور تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت دی۔ سکریٹری اقلیتی بہبود کو بتایا گیا کہ 10 تا 12 مارچ صدرنشین اکیڈیمی رحیم الدین انصاری، ڈائرکٹر محمد غوث اور سپرنٹنڈنٹ کرشنا نئی دہلی میں تھے۔ عالمی اردو کانفرنس کے انعقاد کے سلسلہ میں این سی پی یو ایل سے تعاون حاصل کرنے کے لیے یہ دورہ کیا گیا تھا۔ تینوں نے این سی پی یو ایل کے علاوہ دہلی اردو اکیڈیمی کا بھی دورہ کیا۔ دونوں عہدیدار بچوں کے میگزین کا آر این آئی نمبر حاصل کرنے کیلئے اس کے دفتر گئے۔ یہ تینوں مقامات نظام الدین علاقے سے کچھ فاصلے پر ہیں۔ اکیڈیمی سے دریافت کیا گیا کہ آیا دورے کے بارے میں حکومت سے اجازت حاصل کی گئی تھی؟ جواب میں بتایا گیا کہ دورہ کی جی اے ڈی کو اطلاع دی گئی اور دہلی کے تلنگانہ بھون میں دو روم بک کیئے گئے تھے۔ 13 مارچ کو تینوں حیدرآباد واپس ہوگئے۔ حکومت نے تینوں افراد کی موجودہ صحت کے بارے میں دریافت کیا اور پابند کیا کہ وہ اپنی صحت کا خیال رکھیں اور کسی بھی تبدیلی کی صورت میں فوری معائنے کے لیے رجوع ہوں۔ بتایا جاتا ہے کہ نئی دہلی سے واپسی کے بعد سے یہ تینوں زیادہ تر وقت گھر میں گزار رہے ہیں۔ سکریٹری اقلیتی بہبود احمد نے دورے سے متعلق تفصیلات چیف سکریٹری کو پیش کردیں۔ اقلیتی بہبود کے ادارے میں کورونا وائرس سے متعلق حکومت کی جانب سے معلومات حاصل کئے جانے سے دیگر اداروں میں سنسنی دوڑ گئی ہے۔