صدرنشین وقف بورڈ کے عہدے پر محمد سلیم کی برقراری درست

   

مخالفت میں دائر کردہ درخواست خارج، جسٹس اے راج شیکھر ریڈی کا فیصلہ
حیدرآباد۔ 24 اکٹوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے صدرنشین وقف بورڈ کی حیثیت سے محمد سلیم کی برقراری کو چیلنج کرتے ہوئے داخل کی گئی درخواست کو مسترد کردیا۔ جسٹس اے راج شیکھر ریڈی نے آج مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئے صدرنشین وقف بورڈ کے عہدے پر محمد سلیم کی برقراری کو قانونی قرار دیا۔ قانون ساز کونسل کی میعاد کے اختتام کے بعد بھی محمد سلیم کی عہدے پر برقراری کو چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ محمد سلیم وقف ایکٹ کے تحت باقی میعاد کے لیے عہدے پر برقرار رہ سکتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ایڈوکیٹ جنرل بی ایس پرساد اور محمد سلیم کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ ڈی پرکاش ریڈی نے مقدمہ میں دلائل پیش کئے تھے۔ وقف بورڈ کے اسٹانڈنگ کونسل ایم اے مجیب نے بورڈ کی جانب سے اپنا موقف پیش کیا تھا۔ واضح رہے کہ مقدمہ کی طویل سماعت کے بعد جسٹس راج شیکھر ریڈی نے فیصلہ محفوظ کردیا تھا۔ آج عدالت کی کارروائی کے آغاز کے ساتھ ہی انہوں نے اپنا فیصلہ سنایا۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے فوری بعد محمد سلیم نے بارگاہِ خداوندی میں سجدہ شکر ادا کرتے ہوئے دو رکعت نماز شکرانہ ادا کی۔ انہیں مبارکباد دینے کے لیے وقف بورڈ پر تانتا بندھ گیا۔ مختلف اقلیتی اداروں کے صدور نشین اور مسلم اداروں کے ذمہ داروں نے محمد سلیم کو مقدمہ میں کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد سلیم نے کہا کہ وہ اسے شخصی کامیابی تصور نہیں کرتے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا شکر و احسان ہے کہ اس نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے لیے ان کا انتخاب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقدمہ کے پس پردہ لینڈ مافیا سرگرم تھا جو یہ نہیں چاہتا تھا کہ صدرنشین کے عہدے پر ان کی برقراری باقی رہے۔ محمد سلیم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ جسے رکھنا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ ٹھیک اسی طرح عدالت کا فیصلہ ان کے حق میں آیا ہے۔ محمد سلیم نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو اور وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما رائو نے ان کی ایمانداری کو دیکھتے ہوئے عہدے پر برقراری میں مکمل تعاون کیا اور ایڈوکیٹ جنرل نے حکومت کی جانب سے بھرپور پیروی کی۔ وقف ایکٹ کے سیکشن 15 کے تحت صدرنشین کی میعاد 5 سال اور وہ باقی ڈھائی سال کی میعاد مکمل کریں گے۔ محمد سلیم نے کہا کہ یہ میری شخصی نہیں بلکہ عوام کی کامیابی ہے۔ جن لوگوں نے میری مخالفت کی میں ان کی نیک ہدایت کے لیے دعاگو ہوں۔ مجھے ہمیشہ اللہ تبارک و تعالیٰ پر بھروسہ رہا اور میں دیانتداری کے معاملے میں اللہ کے سوا کسی اور سے ڈرنے والا نہیں ہوں۔ میں نے صدرنشین کی طرح نہیں بلکہ ایک خادم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہا ہوں۔ سابق میں صدرنشین وقف بورڈ کے بے داغ ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے کے سی آر نے مجھے دوبارہ اس عہدے پر فائز کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ باقی میعاد میں کسی دبائوکو قبول کئے بغیر وقف جائیدادوں کے تحفظ کے لیے کام کریںگے۔ میں نے بچپن سے جدوجہد کرتے ہوئے ترقی حاصل کی ہے اور میں عوام سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ میری صحت و ایمان کے لیے دعا کریں۔ ایک سوال کے جواب میں محمد سلیم نے کہا کہ ہائی کورٹ کے مقدمے سے صدارت پر برقراری کے سلسلہ میں الجھن ہمیشہ کے لیے دور ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوقافی جائیدادوں کا تحفظ ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے اور وقف بورڈ کی جانب سے ناجائز قابضین کے خلاف مقدمات درج کرتے ہوئے کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بورڈ سے تنخواہ، گاڑی، ٹی اے ڈی اے یا کسی اور نوعیت کی مراعات حاصل نہیں کرتے۔ بلکہ صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے کام کررہے ہیں۔