ونیزویلا اپوزیشن لیڈر ماریہ نے اپنا ’امن نوبل انعام ‘امریکی صدر کے حوالے کردیا
واشنگٹن، 16 جنوری (یو این آئی) وینزوئیلا کی اپوزیشن لیڈر ماریہ کورینا ماچاڈو نے اپنا امن نوبل انعام (میڈل) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دے دیا۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق وینزوئیلا کی اپوزیشن لیڈر ماریہ نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر سے ملاقات کی اور انہیں گزشتہ سال خود کو ملنے والا امن کا نوبل انعام (میڈل) پیش کیا، جو صدر ٹرمپ نے قبول کرلیا ہے ۔ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ میڈل اپنے پاس رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جمعرات کی شام کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے لکھا کہ ماریہ نے خدمات کے صلے کے طور پر مجھے نوبل امن انعام پیش کیا جو کہ باہمی احترام کی شاندار علامت ہے ۔ شکریہ ماریہ! ماریہ نے صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں اس ملاقات کو بہت بہترین قرار دیا ہے ، ان کا کہنا ہے کہ یہ تحفہ ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر دیا ہے ۔ ان کے نزدیک صدر ٹرمپ نے وینزوئیلا کے عوام کی آزادی کے لیے کردار ادا کیا۔
امریکی صدر اور وینزوئیلا کی اپوزیشن لیڈر کے درمیان پہلی ملاقات ایک گھنٹہ سے زائد وقت تک جاری رہی۔ اس کے بعد ماریہ ماچاڈو نے کیپٹل ہل میں متعدد سینیٹرز، ریپبلکن اور ڈیموکریٹک رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ واضح رہے کہ یہ وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر کا یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی فوج نے وینزوئیلا پر حملہ کرکے صدر نکولس مادورو کو اہلیہ سمیت گرفتار کرلیا اور وہاں عبوری حکومت قائم ہے ۔ جب کہ ٹرمپ مادورو کی جگہ انہیں (ماریہ ماچاڈو) کو دینے کا امکان مسترد کرچکے ہیں۔ اس حوالے سے روئٹرز یہ بھی لکھتا ہے کہ ماریہ سے ملاقات سے ایک روز قبل جب ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ چاہتے ہیں کہ ماریہ اپنا نوبل انعام ان کو دیں تو امریکی صدر نے کہا کہ نہیں میں نے اس کے لیے نہیں کہا، کیونکہ انعام تو انہوں نے ہی جیتا ہے ۔ اگرچہ ماریہ ماچاڈو نے اپنا امن نوبل میڈل صدر ٹرمپ کو دے دیا ہے تاہم ناروے کے نوبل انسٹیٹیوٹ پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ نوبل انعام جن کو دیا جاتا ہے ، وہ اعزاز ان ہی کا رہتا ہے اور اس کو منتقل یا منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔
