واشنگٹن، 4 نومبر (یو این آئی) صدر ڈونالڈ ٹرمپ جن کی پالیسیوں سے صرف دنیا کو ہی نہیں بلکہ خود ان کے اپنے ملک امریکہ کو بھی مشکل میں ڈال دیا ہے ۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دوسری مدت کیلئے صدر منتخب ہونے کے فوری بعد کئی اہم فیصلوں کے ساتھ ملک میں نئی پینی (ایک سینٹ کا سکا) بنانے کو بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ کے اس حکمنامہ کے بد اثرات چند ماہ بعد ہی آنا شروع ہو گئے ہیں کیونکہ اب امریکہ میں سکوں یعنی پینی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے ۔ امریکی بینکس اور ریٹیلرز کو سکوں کی شدید کمی کا سامنا ہے ، جس کی وجہ سے عام شہری اور کاروباری طبقہ سب پریشان ہو گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق متعدد بینکوں اور اسٹورز کے پاس اب اتنی پینیز بھی نہیں بچیں کہ وہ صارفین کو درست بقایا رقم واپس کرسکیں۔ سکّوں کی کمی کے باعث کئی دکاندار اب لین دین میں دشواری کا شکار ہیں۔ مشہور اسٹورز نے گاہکوں سے کہا کہ جو 100 پینیاں واپس لائے گا، اُسے ایک مشروب مفت دیا جائے گا۔ ایک اور ریٹیل کمپنی کا کہنا ہے کہ پینی ختم ہونے سے اُسے لاکھوں ڈالر کا نقصان ہوگا، کیونکہ صارفین سے زیادہ رقم لینا قانونی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے ۔ اس لیے انہیں ہر ٹرانزیکشن پر چند سینٹس کم وصول کرنے پڑ رہے ہیں۔
