پورے آگرہ میں ٹرمپ کے استقبال کی تیاریاں ، شہر میں زبردست اشتہار آویزاں
واشنگٹن ۔23فبروری ( سیاست ڈاٹ کام) صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے کہاکہ وہ اپنے ’’ عظیم ہندوستانی دوستوں‘‘ سے مذاکرات کے منتظر ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ پیر کے دن دو روزہ دورہ پر ہندوستان پہنچیں گے اور وزیراعظم ہند نریندر مودی سے اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ جس میں خاتون اول امریکہ میلانیہ ٹرمپ اور دختر ایوانکا ، داماد اور اعلیٰ سطحی امریکی عہدیداروں کی کثیر تعداد میں شرکت ہوگی ، بات چیت کریں گے ۔ انہوں نے اپنے ٹوئیٹر پرکہاکہ ان کے اور ہندوستان کے درمیان مسائل کی یکسوئی کی جائے گی ۔ ان کی آمد کے موقع پر ہندوستان اُن کی ایک ویڈیو فلم بھی بنانا چاہتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ باہمی تعلقات بہتر بنانے اور دونوں ممالک کے دفاعی مفادات میں مزید اضافہ کیلئے ہندوستان کو ایک موقع فراہم ہوا ہے ۔ بارک اوباما کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ دوسرا صدر امریکہ ہیں جو اپنی پہلی میعاد میں ہندوستان کا دورہ کریں گے ۔ جن مسائل پر باہم تبادلہ خیال کیا جائے گا
ان میں ہندوستان اور پاکستان کے ناقدین کے بموجب دونوں ممالک کے باہمی تجارتی تعلقات پر حد بندیاں اور انسداد دہشت گردی تعاون میں اضافہ اور H-1Bکے بارے میں ہندوستان کے اندیشوں کا ازالہ شامل ہوگا ۔ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ہندوستان اُن کے صدر رہنے کے دوران ہی تعلقات میں اضافہ کریں کیونکہ انہیں ہندوستانیوں سے اور ہندوستانی نژاد امریکی شہریوں سے بے انتہا محبت ہے ۔ صدر ٹرمپ ہندوستان کے دیگر صدور کی بہ نسبت ہندوستان سے گہرے تعلقات کیلئے شہرت رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہندوستانی نژاد تاریکین وطن کو امریکی شہریت دینے کے سلسلہ میں سنجیدگی سے غور کررہے ہیں۔ ان کے اس اقدام سے امکان ہے کہ کئی ہندوستانی نژاد افراد جو امریکہ میں مقیم ہیں فائدہ اٹھاسکیں گے ۔ داخلی سلامتی کا محکمہ امریکی شہریت کے بارے میں شرائط و قواعد کو قطعیت دے گا ۔ 14 اگست کو H-1B ویزا جاری کرنے کے سلسلہ میں قطعی شرائط کا اعلان کیا گیاتھا اور کہا گیا تھا کہ یہ قواعد 15 اکٹوبر 2019ء سے نافذ العمل ہوں گے ۔ برسراقتدار پارٹی نے تجویز پیش کی ہے کہ محکمہ داخلی سلامتی امریکہ ناقابل عمل شرائط مسلط کرنے کا امکان ہیں ، جس کی وجہ سے امریکہ میں مستقل قیام کے باوجود کوئی ایسا شخص جس کے خلاف قانونی کارروائی زیرالتواء ہو امریکی شہریت حاصل نہیں کرسکے گا ۔ نئے قانون سے استفادہ کرنے کیلئے افراد کو اپنے قیام کی مدت میں توسیع کی خواہش کرنی ہوگی ۔
