نیویارک: امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے افغانستان کے طالبان حکمرانوں سے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے اس سول انجنیئر کو رہا کر دیں جنہیں دو سال قبل اغوا کیا گیا تھا اور جن کے متعلق خیال ہیکہ وہ طالبان کے قبضے میں باقی رہ جانے والا واحد امریکی یرغمالی ہے۔ امریکی نیوی کے سابق اہل کار مارک فریچز کی عمر 59 سال ہے اور ان کا تعلق امریکی ریاست الی نوائے کے قصبیلامبرڈ سے ہے۔ انہوں نے لگ بھگ دس سال تک افغانستان میں تعمیراتی پراجکٹس پر کام کیا۔انہیں فروری 2020 میں طالبان اور امریکہ کے درمیان امریکی فوج کے انخلاسے متعلق معاہدے پر دستخط ہونے سے ایک ماہ پہلے اغوا کیے جانے کے بعد طالبان کے ایک دھڑے حقانی نیٹ ورک کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ انہیں قید میں رہتے ہوئے دو سال ہو گئے ہیں۔صدر بائیڈن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کسی امریکی یا کسی بے قصور شہری کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنا ہمیشہ ناقابل قبول ہے اور کسی کو یرغمال بنانا خاص طور پر سفاکی اور بزدلی کا عمل ہے۔بیان میں مزید کہا گیاہے کہ اس سے قبل کہ طالبان یہ توقع رکھیں کہ ان کی جائز قانونی حیثیت تسلیم کیے جانے کی خواہشات پر غور کیا جائے، انہیں لازماً فوری طور پر مارک کو آزاد کر دینا چاہیے۔اس پر کوئی گفت و شنید نہیں ہو گی۔