نئی دہلی: کل جمعیۃ علماء ہند کے صدر دفتر نئی دہلی میں جمعیۃ علماء ہند کے چونتیسویں اجلاس عام کی تیاریوں کے سلسلے میں مغربی یوپی کے ذمہ داروں اور ارباب مدارس کی ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی جس میں مغربی یوپی کے 22 اضلاع سے جمعیۃ علماء ہند کے ذمہ داران و ارباب مدارس شریک ہوئے۔ اس موقع پر صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی نے اپنے خاص خطاب میں کہا کہ جمعیۃ کے اجلاس ہائے عام ملک و ملت کی رہنمائی کی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے منعقد کیے جاتے ہیں۔ساتھ ہی اس کے ذریعہ ملک کے باشعور اور ذمہ دار حضرات کو اپنی فکر و منہج کے اجتماعی اظہار اور مستقبل کے لائحہ عمل کی تیاری کا موقع ملتا ہے۔مولانا مدنی نے کہا کہ کسی بھی قوم کے لیے مایوسی سے بڑھ کر کوئی حادثہ نہیں ہے ، آج کے حالات میں یہ اجلاس اعتماد سازی کی فضا ہموار کرے گا اورملک کے ہر فرد کی ذہن سازی کی جائے گی کہ وہ اپنے اقتصادی، تعلیمی اور سماجی حالات کو کس طرح بہتر کرسکتے ہیں اور آگے بڑھ کر ملک و ملت کے مفید تر بن سکتے ہیں ۔مولانا مدنی نے تنظیم کو بہت بڑی طاقت بتاتے ہوئے کہا کہ تنظیم کا زوال اس وقت شروع ہو جاتا ہے جب اس میں نئے لوگوں کو جوڑنے کا سلسلہ باقی نہیں رہتا ۔انھوں نے جماعتی احباب سے اپیل کی کہ 34 ویں اجلاس عام کو ملک و ملت اور تنظیم کی حیات کے لیے بہت اہم سمجھتے ہوئے اس کی تیاری میں جٹ جائیں۔اس موقع پر مولانا حکیم الدین قاسمی ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند نے عوامی رابطہ سازی کی ضرورت پر زورد یا اور کہا کہ آئندہ جمعہ کو مساجد میں اجلاس سے متعلق اعلان کریں اور اس کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالیں۔