وینزویلا کی جانب سے دعوے کی تصدیق یا تردید ہنوز باقی، امریکہ پر فوجی تنصیبات پر حملے کرنے کا الزام
کراکس ۔ 3 جنوری (ایجنسیز) وینزویلا کی حکومت کی جانب سے فوری طور پر امریکی صدر کے اس دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔ کراکس حکومت نے ایک بیان میں صدر مادورو کے حامیوں سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل بھی کی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا کہ امریکہ نے وینزویلا پر حملہ کر کے صدر نکولاس مادورو کو گرفتار کر لیا ہے اور انہیں ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ امریکہ نے وینزویلا اور اس کے رہنما صدر نکولاس مادورو کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کامیابی سے انجام دی ہے، جنہیں اپنی اہلیہ سمیت گرفتار کر کے ملک سے باہر لے جایا گیا ہے۔‘‘ وینزویلا کی حکومت کی جانب سے فوری طور پر اس دعوے کی تصدیق نہیں کی گئی۔ یہ 1989 میں پاناما پر امریکی حملے کے بعد، جس کا مقصد فوجی حکمران مینوئل نوریگا کو معزول کرنا تھا، لاطینی امریکہ میں امریکہ کی سب سے براہِ راست مداخلت قرار دی جا رہی ہے۔ امریکہ نے مادورو پر ’’نارکو اسٹیٹ‘‘ چلانے اور انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کر رکھے ہیں۔ 2013 ء میں ہوگو شاویز کے بعد اقتدار سنبھالنے والے مادورو کا کہنا ہے کہ واشنگٹن دنیا کے سب سے بڑے تیل ذخائر پر قبضہ کرنے کے لیے وینزویلا کو نشانہ بنا رہا ہے۔ دوسری طرف وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں 3 جنوری کی صبح مقامی وقت کے مطابق تقریباً 2 بجے کم از کم سات دھماکوں اور نچلی پرواز کرتے طیاروں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد وینزویلا کی حکومت نے امریکہ پر متعدد ریاستوں میں شہری اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا۔ امریکی محکمہ دفاع نے اس حوالے سے تبصرے کے لیے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی درخواست وائٹ ہاؤس کو بھیج دی، تاہم فوری طور پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ اس دوران امریکی فیڈرل ایوی ایشن اتھاریٹی نے کراکس میں دھماکوں سے قبل ’’جاری فوجی سرگرمی‘‘ کے پیش نظر امریکی کمرشل پروازوں کے لیے وینزویلا کی فضائی حدود بند کر دیں۔ کراکس میں ان دھماکوں کے بعد مختلف علاقوں میں لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔ 21 سالہ دفتری ملازم کارمن ہڈالگو نے کہا کہ ساری زمین لرز اٹھی، یہ خوفناک تھا۔ ہم نے دھماکے اور طیاروں کی آوازیں سنیں۔ یوں لگا جیسے ہوا ہمیں ٹکرا رہی ہو۔‘‘ وہ سالگرہ کی تقریب سے واپس آتے ہوئے اپنے دو رشتہ داروں کے ساتھ تیزی سے چل رہی تھیں۔ حکومتی بیان میں صدر نکولاس مادورو کے حامیوں سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ لوگ سڑکوں پر نکل آئیں۔ حکومت ملک کی تمام سماجی اور سیاسی قوتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ متحرک ہوں اور اس سامراجی حملے کی مذمت کریں۔ بیان کے مطابق صدر مادورو نے تمام قومی دفاعی منصوبوں پر عملدرآمدکا حکم دیا اور’’ بیرونی خلل کی حالت‘‘ نافذ کر دی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی فوج حالیہ دنوں میں مبینہ منشیات اسمگلنگ میں ملوث کشتیوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ جمعہ کے روز وینزویلا نے کہا تھا کہ وہ منشیات اسمگلنگ کے خلاف امریکہ کے ساتھ معاہدہ پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ مادورو نے جمعرات کو نشر ہونے والے ایک پہلے سے ریکارڈ شدہ انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکہ حکومت کی تبدیلی مسلط کرنا اور تیل کے وسیع ذخائر تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے، جو اگست میں کیریبین سمندر میں بڑے فوجی تعیناتی کے ساتھ شروع ہونے والی دباؤ کی مہم کا حصہ ہے۔ امریکہ میں مادورو پر منشیات دہشت گردی کے الزامات عائد ہیں۔ گزشتہ ہفتہ سی آئی اے نے ایک ڈرون حملہ کیا تھا جس میں مبینہ طور پر وینزویلا کے منشیات کارٹلز کے زیر استعمال ایک ڈاکنگ ایریا کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ ستمبر میں کشتیوں پر حملوں کے آغاز کے بعد وینزویلا کی سرزمین پر پہلی معلوم براہ راست کارروائی تھی۔
