کراکس : وینزویلا کے صدر نکولس میڈورو نے اتوار کی شام دارالحکومت کراکس میں صدارتی محل سے ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب کے دوران اپنے عوام اور دنیا بھر کو حیران کر ڈالا۔ انہوں نے خطاب میں چند قطروں کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک عجیب “کرشمہ” ہے۔ میڈورو نے دعویٰ کیا کہ ان قطرون کو ہر 4 گھنٹے میں پینے پر یہ “کورونا وائرس” کو 100% مار ڈالتے ہیں۔ میڈورو نے انکشاف کیا کہ دوا کا نامCarvativir ہے اور اس کی تیاری کا سہرا وینزویلا کے طبیب José Gregorio Hernández کے سر ہے۔جوز گریگوریو ہرنانڈز 1919ء میں 54 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو گیا تھا۔ وہ 1888ء میں کراکس میں ایک یونیورسٹی سے طب کی تعلیم حاصل کر کے فارغ ہوا۔ بعد ازاں حکومت نے اسے فرانس بھیجا جہاں اس نے مختلف اقسام کے جرثوموں اور وائرسوں پر تحقیق مکمل کی۔ ہرنانڈز 1919ء میں سڑک پار کرتے ہوئے ایک گاڑی سے کچلے جانے کے سبب اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔میڈورو نے اپنے خطاب میں بتایا کہ “اس دوا کے استعمال کے واسطے سرکاری طور پر منظوری حاصل کر لی گئی۔ مزید یہ کہ دوا کو ایسے مریضوں پر استعمال کیا گیا جو متوسط درجے یا انتہائی نازک حالت میں تھے۔ یہ تمام مریض ان قطروں کے استعمال سے مکمل طور پر صحت یاب ہو گئے۔ ہر 4 گھنٹوں بعد اس دوا کے 10 قطرے زبان کے نیچے ڈالیے اور پھر کرشمہ دیکھیے۔ یہ دوا وائرس کا نہایت طاقت ور توڑ ہے اور کورونا کے عمل کو ناکام بنا دیتی ہے”۔