صدر ٹرمپ دورہ ہند میں مسئلہ کشمیر پر کھل کر بات کریں: پاکستان

   

Ferty9 Clinic

اسلام آباد ۔ 13 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ثالثی کے دعوؤں پر عمل کرتے ہوئے اپنے دورہ ہند کے دوران اس پر بات کریں۔پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے جمعرات کو اپنی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ ’صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایک سے زائد مرتبہ کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کی پیش کش کر چکے ہیں۔‘’ہم امید کرتے ہیں کہ اب وہ اپنے وعدوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔ انڈیا کے دورے کے دوران وہ خطے میں عدم استحکام کی وجہ بننے والے مسئلے پر انڈین قیادت سے وہ کھل کر بات کریں گے۔‘انھوں نے کہا کہ ’کشمیر کرفیو، میڈیا اور سوشل میڈیا بلیک آؤٹ کے باعث دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکا ہے۔ حریت رہنما سید علی گیلانی کے حوالے سے بھی افواہیں اسی وجہ سے گردش کر رہی ہیں کہ موبائل اور انٹرنیٹ کی بندش کے باعث کسی کو حقائق تک رسائی نہیں۔ یہ صورت حال عالمی برادری کی توجہ کی متقاضی ہے۔‘’وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی ثالثی کی پیش کش پر امریکی قیادت کو انڈیا سے بات کرنے کا کہہ چکے ہیں۔‘انڈیا کی جانب سے امریکہ سے مربوط فضائی دفاعی نظام کی خریداری سے متعلق سوال پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ’موجودہ صورت حال میں ہمارے لیے یہ خاص طور پر پریشان کن بات ہے۔‘عائشہ فاروقی نے کہا کہ ’خطہ پہلے ہی کشیدگی کا شکار ہے۔ امریکہ کی جانب سے ہندوستان کو مربوط فضائی دفاعی نظام کی فروخت کا فیصلہ خطے میں سٹریٹجک عدم توازن کا باعث بنے گا۔ اس کے پاکستان اور خطے کی سلامتی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔‘انھوں نے کہا کہ ’عالمی برادری پاکستان کے خلاف ہندوستان کے جارحانہ عزائم، سیاسی اور عسکری قیادت کے پاکستان کو دیے گئے دھمکی آمیز بیانات سے بخوبی آگاہ ہے۔ خطہ اسلحے کی دوڑ کا متحمل نہیں ہو سکتا، اس لیے عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ خطے کو مزید عدم استحکام سے روکنے کے لیے کردار ادا کرے۔‘چین میں کرونا وائرس کے حوالے سے ترجمان نے بتایا کہ’جن چار پاکستانی طلبہ میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی وہ اب صحت یاب ہو کر ہاسپٹل سے فارغ ہو چکے ہیں۔‘’وزیراعظم کی ہدایت پر کورونا سے متاثرہ علاقوں میں موجود پاکستانی طلبہ اور شہریوں کے حوالے سے چینی حکام کے ساتھ رابطے مزید بہتر بنا دیے ہیں اور ان کی فلاح اور ضروریات کا خیال رکھا جا رہا ہے۔‘