ہندوستان تیسرے فریق کا امکان پہلے ہی مسترد کرچکا ہے ، دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ، فیصلہ پاکستان پر منحصر
واشنگٹن ۔ 25 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اشارہ دیا ہیکہ ہندوستان اور پاکستان اگر خواہش کریں تو موصوف مسئلہ کشمیر پر ثالثی کیلئے تیار ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے یہ بات بتائی۔ لہٰذا اب یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہیکہ اس ثالثی کی پیشکش کی گیند اب پاکستان کے پالے میں ہے جو اس موقع کا فائدہ اس طرح اٹھا سکتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے دہشت گردی کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ کردے۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے سینئر عہدیدار کے مطابق ٹرمپ قبل ازیں بھی کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کرچکے ہیں۔ وزیراعظم ہند نریندر مودی اور وزیراعظم پاکستان عمران خان سے ملاقات کے دوران بھی انہوں نے کشمیر پر مختصراً بات چیت کی تھی۔ اب صورتحال یہ ہیکہ ٹرمپ کشمیر پر اپنار ول نبھانے کیلئے بالکل تیار بیٹھے ہیں لیکن شرط یہی ہیکہ ہندوپاک کی جانب سے ٹرمپ سے ثالثی کرنے کی بات کہی جائے۔ ایک سوال کے جواب میں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے عہدیدار نے بتایا کہ ہندوستان کا یہ موقف رہا ہیکہ وہ کشمیر معاملہ میں کسی تیسرے فریق کی ثالثی کا خواہاں نہیں۔ مذکورہ عہدیدار نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ امریکہ ہندوپاک کے درمیان تعمیری بات چیت کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے کی ہمیشہ حمایت کرتا رہے گا جس میں وہ اہم اقدامات بھی شامل ہیں جنہیں پاکستان کو کرنے ہوں گے اور سب سے اہم بات یہ ہیکہ پاکستان کو سرحد پار دہشت گردی بالکل ختم کرنا ہوگی اور اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کے اڈوں سے پاک کرنا ہوگا کیونکہ سرحد پار دہشت گردی کے واقعات نے ہندوپاک کے درمیان تعمیری بات چیت کی راہ میں ہمیشہ رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔ اگر ایک طرف نریندر مودی ہندوپاک کے درمیان امریکہ کی ثالثی کے خواہاں نہیں ہیں تو بات ایک بار پھر پاکستان پر آ کر رک جاتی ہے اور اگر پاکستان یہ چاہے کہ ٹرمپ کشمیر معاملہ میں ثالثی کریں تو اس وقت ہندوستان کا موقف کیا ہوگا، اس بارے میں پیش قیاسی نہیں کی جاسکتی۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ عہدیدار نے ہندوپاک کے درمیان کرتارپور راہداری پر یادداشت مفاہمت پر دستخط کو ایک اچھی علامت قرار دیا اور کہا کہ اس اقدام کا خیرمقدم کیا جانا چاہئے کیونکہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی میں مدد ملے گی اور ساتھ ہی ساتھ عوام سے عوام کے تعلقات بھی مستحکم ہوں گے۔ انہوں نے ایک بات اور کہی کہ کرتارپور راہداری ہندوپاک کے درمیان خیرسگالی کے جذبہ میں اضافہ کرے گی اور تعمیری بات چیت کیلئے ماحول سازگار ہوگا۔
