صدر ٹی ڈی پی چندرا بابو نائیڈو موقع پرست سیاست داں

   

ان کے دور اقتدار میں اقلیتیں نظرانداز، کڑپہ میں نائب وزیر اعلیٰ اے پی ایس بی امجد باشا کی پریس کانفرنس

کڑپہ ۔ 28 اپریل (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) نائب وزیر اعلیٰ آندھرا پردیش ایس بی امجد باشاہ نے یہاں اپنے کیمپ آفس میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قائد اپوزیشن صدر تلگودیشم پارٹی این چندرا بابو نائیڈو پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں موقع پرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ساڑھے چودہ سال اپنے دور اقتدار میں انہوں نے کبھی بھی اقلیتوں کی بہبود کے لئے کچھ نہیں کیا۔ خصوصاً مسلمانوں کی ترقی کے لئے کچھ نہیں کیا۔ 1999 اور 2014 کے انتخابات میں فرقہ پرست بی جے پی سے مفاہمت کے ذریعہ چندرا بابو نائیڈو برسر اقتدار آئے اپنے دور اقتدار میں مسلمانوں کو نظرانداز کیا۔ یہاں تک کہ پارٹی کے قیام سے وابستہ مسلم قائدین تک کو ان سے ملنے وقت نہیں دیا جاتا تھا۔ لال جان پاشاہ کے خاندان کو بھی نظرانداز کردیا گیا۔ واضح رہے کہ پچھلے دنوں چندرا بابو نائیڈو نے پرتاڑو ضلع میں اقلیتی اجلاس منعقد کرکے 2024 میں برسر اقتدار آنے پر مسلمانوں کے تمام مسائل کو حل کرنے کا تیقن دیا تھا۔ اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے امجد باشاہ نے کہا کہ جو شخص اپنے چودہ سالہ دور اقتدار میں مسلمانوں کے لئے کچھ نہیں کیا اب انتخابات کے پیش نظر مسلمانوں کے ووٹوں کے حصول کے خاطر جھوٹے وعدے کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے مسلمان اب ان کے جھوٹی باتوں میں آنے والے نہیں ہیں۔ امجد باشاہ نے کہا کہ 2014 میں برسر اقتدار آنے کے بعد چندرا بابو نائیڈو نے اپنے 5 سالہ دور اقتدار میں ایک بھی مسلم وزیر کو کابینہ میں جگہ نہیں دی۔ انہوں نے یو پی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے بھی چندرا بابو نائیڈو کو بدتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یوگی نے اپنی کابینہ میں ایک مسلم وزیر کو شامل کیا ہے۔ آنجہانی وزیر اعلیٰ ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کو اقلیتوں کا حقیقی قائد قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں پسماندہ مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات دینے اس کے علاوہ مسلمانوں کی ہمہ جہتی ترقی کے لئے ٹھوس اقدامات کئے۔ موجودہ وزیر اعلیٰ وائی ایس جگن موہن ریڈی کی ستائش کرتے ہوئے امجد باشاہ نے کہا کہ جگن موہن ریڈی نے 1-5 (رکن مسلم کو) پارٹی ٹکٹ دیا جس میں سے 4 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے۔ ہندو پور سے بالا کرشنا کے مقابلہ وائی ایس آر کانگریس امیدوار محمد اقبال کو شکست ہوئی۔ اس پر جگن موہن ریڈی نے محمد اقبال کو ایم ایل سی بنایا۔ ریاست میں اردو زبان کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ جگن موہن ریڈی نے دیا۔ اس کے علاوہ آج ریاست میں مسلمانوں کی ہمہ جہتی ترقی کے لئے ٹھوس اقدامات کئے گئے ہیں۔ امجد باشاہ نے ریاست کے مسلمانوں سے چندرا بابو نائیڈو کی تاریخ پر نظر ڈالنے کی خواہش کرتے ہوئے ان کے جھوٹے باتوں میں نہ آنے کی خواہش کی۔ اس موقع پر وائی ایس آر کانگریس ریاستی سکریٹری افضل خان دیگر قائدین سبا ریڈی کرشنا، شفیع، ونود اور دوسرے موجود تھے۔