صدر گوٹابایا راجا پاکسے مستعفی ہو جائیں گے، سری لنکا کے وزیر اعظم نے تصدیق کر دی

   

کولمبو: سری لنکا کے وزیر اعظم کے دفتر نے پیر کو اس بات کی تصدیق کی کہ صدر گوتابایا راجا پاکسے پہلے اعلان کے مطابق اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔قبل ازیں راجا پاکسے نے اسپیکر کو مطلع کیا کہ وہ 13 جولائی کو صدارت سے استعفیٰ دے دیں گے۔کولمبو کی طرف ایک بڑے عوامی مارچ اور ایوان صدر پر زبردستی قبضے کے بعد وزیر اعظم رانیل وکرما سنگھے نے اسپیکر سے کہا کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو طلب کریں اور بحران کے حل کے لیے کوئی راستہ طے کریں۔پارٹی رہنماؤں کی اکثریت نے صدر اور وزیر اعظم کو ہٹانے اور حکومت بنانے کے لیے نئے انتخابات ہونے تک ایک مخصوص مدت کے لیے ایک عارضی صدر اور آل پارٹیز حکومت مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اسپیکر نے صدر اور وزیراعظم کو خط بھیج دیا۔

کل جماعتی اجلاس کے بعد اسپیکر نے صدر اور وزیر اعظم کو ایک خط بھیجا، جس میں ان پر زور دیا گیا کہ وہ اقتدار کی پرامن منتقلی کے لیے مستعفی ہو جائیں۔31 مارچ سے جب کولمبو کے باہر صدر راجا پاکسے کی نجی رہائش گاہ کو مظاہرین نے گھیر لیا جو بڑھتے ہوئے مالی بحران کے درمیان ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں، پورے جزیرے میں ایک ہی نعرے کے ساتھ احتجاج جاری رہا۔2 اپریل کو مظاہرین نے گال فیس گرین میں صدر کے دفتر کا گھیراؤ کیا اور اس کے داخلی راستے کو بند کر دیا کیونکہ وہ ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے رہے۔بغیر ایندھن کے 27 جون سے ملک کو عملی طور پر دو ہفتوں کے لیے لاک ڈاؤن کر دیا گیا تھا لیکن لوگوں نے صدر سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کرنے کے لیے کولمبو آنے کا منصوبہ بنایا۔