نئی دہلی : ملک سے غداری کے الزام میں گرفتار کیرالہ کے صحافی صدیق کپن کو آج یعنی 2 فروری کو جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ دو مقدمات میں ضمانت ملنے کے ایک ماہ سے زیادہ وقفہ کے بعد لکھنؤ کی ایک خصوصی عدالت نے آج ان کی رہائی کے حکم پر دستخط کر دیئے۔ ان کے وکیل نے کہا کہ تمام رسمی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں لیکن رہائی کا حکم وقت پر جیل نہیں پہنچا تاہم وہ آج جیل سے باہر آئے ہیں۔اس سے قبل صدیق کپن کو چہارشنبہ یعنی یکم فروری کو رہا کیا جانا تھا، لیکن خصوصی عدالت کے جج بار کونسل کے انتخابات میں مصروف تھے۔ قابل ذکر ہے کہ صدیق کپن کو اکتوبر 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا۔
وہ 20 سالہ درج فہرست ذات کی لڑکی کے ساتھ مبینہ اجتماعی عصمت دری اور موت کی خبر کرنے کے لئے ہاتھرس جا رہے تھے۔پولیس نے صدیق کپن پر بدامنی پھیلانے کے لیے وہاں جا نے کا الزام لگایا تھا۔ اتر پردیش پولیس نے صدیق کپن پر غداری اور انسداد دہشت گردی کے سخت قانون یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج کیا۔ فروری 2022 میں، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے ان کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ بھی دائر کیا جس میں الزام لگایا گیا کہ اس نے ممنوعہ پیپلز فرنٹ آف انڈیا سے فنڈز حاصل کیے تھے۔تاہم گزشتہ سال ستمبر میں انہیں دہشت گردی کے مقدمے میں اور دسمبر میں منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت ملی تھی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ صدیق کپن کو ضمانت دینے میں کافی وقت لگا۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ صدیق کپن اور اس کے ساتھ گرفتار کیے گئے دیگر افراد کالعدم پاپولر فرنٹ آف انڈیا اور اس کے طلبہ ونگ کیمپس فرنٹ آف انڈیا کے رکن ہیں۔ تاہم، کپن نے دہشت گردی کی سرگرمیوں یا مالی معاونت میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صحافتی کام سے ہاتھرس جا رہے تھے۔