کسی جماعت یا امیدوار کی اجتماعی تائید سے گریز ‘ مقامی سطح پر فیصلہ
حیدرآباد۔21۔نومبر(سیاست نیوز) تلنگانہ انتخابات میں طبقہ علماء کی جانب سے اصولی موقف اختیار کرتے ہوئے کسی سیاسی جماعت یا امیدوار کی علی الاعلان تائید کی بجائے سیکولر امیدواروں کی کامیابی کیلئے صد فیصد رائے دہی کو یقینی بنانے کی اپیل جاری کی گئی ہے ۔ مولانا سید شاہ جمال الرحمن مفتاحی ‘ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ‘ مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ ‘ مولانا عبدالقوی ‘ مولانا عبیدالرحمن اطہر ندوی‘ مولانا غوث رشیدی ‘ مولانا مصدق القاسمی ‘ مولانا مفتی تجمل حسین ‘ مولانا عبدالملک مظاہری ‘ مولانا مفتی انعام الحق ‘ مولانا مصباح الدین حسامی ‘ مولانا رفیع الدین رشادی ‘ مولانا محمد انصار اللہ قاسمی ‘ مولانا مفتی عبداللہ بانعیم کی دستخطوں سے جاری اپیل میں کہا گیا کہ تلنگانہ کے اہل علم و دانشور جانتے ہیں کہ انتخابات کے موقع پرہر شہری کیلئے رائے دہی میں حصہ لینا ملی اور ملکی نقطۂ نظر سے نہایت ضروری ہے اورغیر معمولی ذمہ داری بھی ‘ جس میں جذبات کے ساتھ صحیح تجزیہ بہت ضروری ہے۔ علماء اکرام نے کہا کہ بلاشبہ اس موقع پر کسی بھی جماعت کی تائید کے معاملہ میں پہلی ترجیح تو یہی ہونی چاہئے کہ ہمارا فیصلہ اتفاق رائے سے ہو یا کم از کم غالب اکثریتی فیصلہ لیا جائے ۔اسی لئے بہت سمجھداری سے کام کرنے کی ضرورت ہے ‘ اسمبلی انتخابات میں اولین ترجیح فرقہ پرست عناصر کو اقتدار سے دور رکھنے کی ہونی چاہئے ‘ اسی لئے ووٹ کو تقسیم ہونے سے محفوظ بچانا نہایت ہی ضروری ہے۔ اگر ووٹ تقسیم ہوتے ہیں تو فرقہ پرستوں کی کامیابی کی راہیں ہموار ہوجائیں گی۔ اکابر علماء اکرام نے ساری ریاست میں کسی ایک پارٹی کی تائید نہ کرنے کا فیصلہ کرکے تجاویز پیش کی ہیں کہ ہر حلقہ میں ذمہ دار علماء امیدواروں کا جائزہ لیں ۔ جو تجاویز پیش کی گئی ہیں ان میں کہاگیا کہ اس امیدوار کا انتخاب کریں جو کہ ملت کیلئے کم نقصاندہ ہو‘ فرقہ پرست طاقتوں کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتا ہو‘جس حلقہ میں کسی فرقہ پرست طاقت کا زور ہوتو برادران وطن کا رجحان جس جانب ہو اس کی تائید کی جائے۔ جس علاقہ میں فرقہ پرست زیادہ متحرک ہوں وہاں جو سیکولر امیدوار فرقہ پرستوں کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتا ہو اس کی تائید کی جائے تاکہ ریاست میں فرقہ پرستی کو کچلنے میں دیگر ابنائے وطن کی مدد کی جائے ۔اس کے علاوہ ووٹ ڈالنے سے کوتاہی نہ کرنے کی تحریک کا سلسلہ جاری رکھ کر آئندہ جمعہ رائے دہی کی اہمیت پر خطیب حضرات رائے دیں تاکہ فرقہ پرستوں کو ناکام بنایا جاسکے۔