آدھے سے زیادہ ایم پیز کے دیگر پارٹیوں میں شامل ہونے کی قیاس آرائیوں پر صدر پارٹی کاسخت بیان
لکھنؤ :اتر پردیش میں گزشتہ چند دنوں کے دوران مختلف میڈیا رپورٹس میں بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی )ارکان پارلیمنٹ کے بارے میں کئی دعوے کئے گئے ہیں۔ ان میڈیا رپورٹس میں پارٹی کے آدھے سے زیادہ ارکان پارلیمنٹ کے دیگر پارٹیوں میں شامل ہونے کی بات کی جا رہی ہے۔ کچھ رپورٹس میں بی ایس پی کے تمام ارکان پارلیمنٹ کی طرف سے بغاوت کے اشارے ملے ہیں۔ لیکن طویل عرصے میں پہلی بار مایاوتی نے اس معاملے پر اپنی خاموشی توڑی اور سخت تبصرہ کیا اور واضح پیغام دیا۔مایاوتی نے کہا کہ ‘امیدواروں کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کیا جانا چاہئے جیسا کہ اتر پردیش کے تناظر میں بہت احتیاط کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ پارٹی امیدواروں کے لیے صرف الیکشن جیتنا ہی کافی نہیں ہے، بلکہ انتخابات کے بعد بھی ان کے لیے بی ایس پی پارٹی اور تحریک کے تئیں وفادار، نظم و ضبط اور محنتی رہنا ضروری ہے۔ انہوں نے اب مستقبل میں امیدواروں کے انتخاب کے حوالے سے پارٹی کا موقف واضح کر دیا ہے۔بی ایس پی سربراہ نے اتراکھنڈ کے سینئر پارٹی عہدیداروں کے ساتھ میٹنگ کے بعد میڈیا کو معلومات دیتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس سے پہلے، بی ایس پی کی قومی صدر مایاوتی نے ہفتہ کو روی داس جینتی پر مبارکباد دی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیاسی فائدے کے لیے ان کے سامنے جھکنے والوں سے محتاط رہنا ضروری ہے۔ بی ایس پی نے آئندہ لوک سبھا انتخابات میں کسی بھی جماعت سے مفاہمت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے ۔پارٹی کے اس فیصلہ کے باعث پارٹی کے بعض ارکان پارلیمنٹ میں بغاوت کے اشارے ملے ہیں ۔سمجھا جاتا ہیکہ ارکان پارلیمنٹ اپنے سیاسی کئیریر کو محفوظ بنانے کیلئے دوسری پارٹیوں کا رخ کرسکتے ہیں ۔اتر پردیش میں سب سے زیادہ لوک سبھا کی نشستیں ہیں ۔ بی جے پی ریاست میںبرسر اقتدار ہے اور اس کی پوری کوشش ہوگی کہ وہ زیادہ سے زیادہ نشستوں پر کامیابی حاصل کرے۔ دوسری طرف سماج وادی پارٹی نے انڈیا بلاک کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے ریاست میں اپنی پارٹی کے موقف کو بہتر بنانے کی کوشش شروع کردی ہے۔ سماج وادی پارٹی سربراہ اکھلیش یادو نے کانگریس سے اتحاد کرتے ہوئے عوام کو نیا پیام دینے اور ریاست میں بی جے پی کو شکست دینے کا عزم کیا ہے۔ ان حالات میں بہوجن سماج پارٹی کو اپنا وقف مستحکم کرنے کیلئے سخت جدوجہد کرنے کی ضرورت ہوگی ۔ ان حالات میں مایا وتی کی کوشش پارٹی قائدین اور کارکنوں کو متحد رکھنے پرہوگی۔