صرف نماز ادا کرنے سے کوئی جگہ مسجد نہیں ہوجاتی: ویدھناتھ

   

نئی دہلی، 16اگست (یو این آئی) اجودھیا کے رام جنم بھومی۔بابری مسجد زمین تنازعہ معاملہ میں سپریم کورٹ میں آج ساتویں دن سماعت ہوئی، جس میں اہم فریق ‘رام للاوراجمان’ نے متنازعہ زمین کے نقشہ اور فوٹو دکھاتے ہوئے کہاکہ صرف نماز ادا کرنے سے وہ جگہ مسجد نہیں ہوجاتی۔ رام للاوراجمان کی طرف سے پیش سینئر وکیل سی ایس ویدھناتھ نے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی پانچ رکنی آئینی بنچ کو متنازعہ زمین کے نقشے اور فوٹو دکھاتے ہوئے دلیل دی کہ کھمبوں میں شری کرشن، شیو تانڈو اور شری رام کے بچپن کی تصویر نظر آتی ہے۔ ویدھناتھ نے دلیل دی کہ متنازعہ ڈھانچہ اور کھدائی کے دوران ملے پاشن استمبھ پر شیو تانڈو، ہنومان اور دیگر دیوی دیوتاوں کی مورتیاں ملیں۔ انہوں نے کہاکہ پکی تعمیر میں جہاں تین گمبد بنائے گئے تھے ، وہیں بچے کی شکل میں رام کی مورتی تھی۔ انہوں نے مسلم فریق سنی وقف بورڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ صرف نماز ادا کرنے سے وہ جگہ آپ کی نہیں ہوسکتی، جب تک وہ آپ کی املاک نہ ہو۔ نماز سڑکوں پر بھی ادا ہوتی ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ سڑک آپ کی ہوگئی۔ ویدھناتھ نے ہندستانی جیولوجیکل سروے محکمہ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کھدائی میں ملے سامان سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہاں منڈپ اور آس پاس کے کھنبے پائے گئے تھے ۔ آئینی بنچ میں شامل جج ایس اے بوبڈے نے مسٹر ویدھناتھ سے پوچھا کہ کیا ان سامان کی کاربن ڈیٹنگ کرائی گئی تھی؟ اس پر انہوں نے ہاں میں جواب دیا اور کہاکہ کھدائی سے برآمد تمام سامان کی کاربن ڈیٹنگ کرائی گئی تھی۔ سنی وقف بورڈ کے وکیل راجیو دھون نے اس پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ کاربن ڈیٹنگ ٹیسٹ صرف ان ہی دھات کی کی جاسکتی ہے جن میں کاربن ہوتے ہیں، لیکن اینٹ اور پتھروں میں کاربن موجود نہیں ہوتے، اس لئے ان کی کاربن ڈیٹنگ نہیں کرائی جاسکتی۔ انہوں نے کہاکہ مورتیوں کی کاربن ڈیٹنگ نہیں کی جاسکتی۔ اس پر ویدھناتھ نے فوری طورپر کہاکہ انہوں نے کبھی ایسانہیں کہا کہ مورتیوں کا کاربن ٹیسٹ کرایا گیا تھا۔
اس کے علاوہ اور بھی سامان ملا ہے جن کا ٹیسٹ کرایا گیا۔۔
سماعت جاری ہے ۔