حیدرآبادی تہذیب کے تحفظ پر عوام فکرمند،بی جے پی کی مہم سے مختلف اندیشے
حیدرآباد : گریٹر بلدی انتخابات کی انتخابی مہم شدت اختیار کر رہی ہے اور تمام پارٹیاں اپنے انداز میں ووٹرس کو راغب کرنے مصروف ہیں۔ حیدرآباد کی روایتی تہذیب اور تمدن کا تحفظ رائے دہندوں کی اولین ترجیح ہے جس کے نتیجہ میں عوام بی جے پی کے فرقہ وارانہ ایجنڈہ کی کھل کر مخالفت کر رہے ہیں۔ انتخابی مہم میں بی جے پی کی فرقہ وارانہ پالیسی کو دیکھتے ہوئے عوام کا احساس ہے کہ حیدرآباد میں فرقہ پرست طاقتوں کا مقابلہ صرف ٹی آر ایس سے ممکن ہے۔ پرانے شہر ہو کہ نیا شہر حیدرآباد کی گنگا جمنی تہذیب کا تحفظ اور امن و امان کو یقینی بنانے گزشتہ 7 برسوں میں کے سی آر حکومت نے عملی اقدامات کرکے ایک کروڑ سے زائد باشندوں کو بے خوف زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیا ہے ۔ دوباک ضمنی چناؤ میں کامیابی کے بعد حیدرآباد میں بی جے پی نے اپنی طاقت جھونک دی ہے۔ بلدی انتخابات کے باوجود بی جے پی کے قومی قائدین کو مدعو کیا گیا ہے۔ یہ قائدین ووٹرس کو مذہب کی بنیاد پر منقسم کرکے کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ بی جے پی کی سرگرمیوں سے شہر کے امن پسند عوام میں تشویش ہے اور اندیشہ ہے کہ اگر فرقہ پرست طاقتیں مضبوط ہوں تو پرامن حیدرآباد کے بجائے پھر ایک بار ’کرفیو حیدرآباد‘ ہوجائیگا۔ متحدہ آندھرامیں فرقہ پرست طاقتوں نے حیدرآباد اور اضلاع میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور پرامن فضاء کو مکدر کرنے بارہا کوشش کی تھی لیکن ٹی آر ایس اقتدار میں فرقہ پرست طاقتیں حاشیہ پر چلی گئیں۔ اسمبلی اور مجالس مقامی کے انتخابات میں عوام میں فرقہ پرست طاقتوں کو مسترد کردیا تھا۔ اب جبکہ یہ طاقتیں دوبارہ سر ابھارنے کی کوشش کر رہی ہیں ، ایسے میں عوام عدم تحفظ کے احساس کا شکار ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ شہر ترقی کی راہ سے بھٹک کر پھر پسماندگی کا شکار ہوجائے۔ شہر کی ترقی کیلئے امن لازمی ہے اور بی جے پی سے مقابلہ کی اہلیت والی واحد پارٹی ٹی آر ایس ہے جسے مضبوط کرکے حیدرآباد کا تحفظ کیا جاسکتا ہے ۔ حیدرآباد کے ووٹرس نے من بنالیا کہ وہ فرقہ پرست طاقتوں کی حوصلہ افزائی نہیں کریں گے، چاہے وہ کسی بھیس میں ہوں۔