حیدرآباد۔ حکومت نے آکسیجن سیلنڈرس کی فروخت اور اسے دواخانوں کے علاوہ دیگر افراد کیلئے بھرنے پر امتناع عائد کردیا ہے اورجن ایجنسیوںکی جانب سے آکسیجن سیلنڈرس میں گیاس بھری جا رہی ہے انہیں اس بات کا پابند بنانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں کہ وہ صرف دواخانوں کو ہی آکسیجن سیلنڈر ریفل کریں کسی اور مقصد کیلئے آکسیجن ریفل کرنے کے اقدامات کی صورت میں سخت کاروائی اور لائسنس کی تنسیخ کا انتباہ جاری کیا گیا ہے ۔ ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ان احکامات کے سلسلہ میں تفصیلات دریافت کرنے کی کوشش پر اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ریاستی حکومت کے محکمہ صحت اور ڈرگس کنٹرول اتھاریٹی کی جانب سے مشترکہ طور پر یہ کاروائی کی گئی ہے اور کہا جا رہاہے کہ ریاست تلنگانہ کے کسی بھی سرکاری یا خانگی دواخانہ میں آکسیجن کی قلت نہ ہو اس کے لئے ریاستی حکومت سے مشاورت کے بعد یہ احکام جاری کئے گئے ہیں۔ ان احکامات کے سلسلہ میں ایجنسی مالکان نے بتایا کہ عہدیداروں یہ ہدایات زبانی جاری کی ہیں اور ان زبانی ہدایات پر عمل آوری نہ کئے جانے پر لائسنس منسوخ کرنے کا انتباہ دیا جا رہاہے۔ حکومت کی جانب سے گھروں میں زیر علاج مریضوں کیلئے آکسیجن سیلنڈر کی عدم اجرائی کو کالا بازاری روکنے کی کوشش قراردیا جا رہاہے جبکہ شہر حیدرآباد کے علاوہ کئی اضلاع میں آکسیجن سیلنڈرس کی قلت کے سبب روزانہ کئی مریض فوت ہونے لگے ہیں۔ گذشتہ تین یوم سے شہر حیدرآباد میں آکسیجن سیلنڈر گھریلو قرنطینہ میں موجود مریضوں کو بے حد مشکل سے حاصل ہونے لگی ہے اور ان حالات میں مریض مجبوری میں دواخانوں کا رخ کر رہے ہیں اور خانگی دواخانوں کے ذمہ داروں کی جانب سے آکسیجن کی قلت کے سبب مریضو ںکو شریک کرنے سے انکار کیا جا رہاہے اور کہاجا رہاہے کہ انہیں جو آکسیجن حاصل ہورہی ہے اس کی قیمت میں بے تحاشہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور اس اضافہ کے سبب وہ آکسیجن خریدنے کے متحمل نہیں ہیں اور جب مریضوں سے کہا جا رہاہے کہ وہ اپنے سیلنڈر ساتھ لائیں تو وہ بھی ممکن نہیں ہورہا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں محکمہ صحت کی جانب سے عائد کی جانے والی ان نئی شرائط کے سبب آئندہ دنوں میں گھریلو قرنطینہ میں رہنے والوں کی بڑی تعداد کو تشویشناک حالات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ جو مریض گھروں میں زیر علاج ہیں وہ 2یا3لیٹر آکسیجن پر ہیں اور اگر وہ بھی ملنی بند ہوجاتی ہے تو حالات سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔