اعظم آباد میں 1234 ایکر اراضی کا حصول، قانون ساز کونسل میں وزیر بھاری مصنوعات کا بیان
حیدرآباد۔/13 ستمبر، ( سیاست نیوز) وزیر بھاری مصنوعات و انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ ریاست میں صنعتوں کے قیام کیلئے فراہم کی گئی اراضیات میں کہیں بھی بے قاعدگیاں نہیں ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میونسپل ایکٹ میں بعض ترمیمات کرتے ہوئے صنعتوں کو اراضیات کے الاٹمنٹ میں کافی محتاط کارروائی کی گئی ہے۔ قانون ساز کونسل میں کے ٹی آر نے کہا کہ مشیرآباد کے علاقہ میں اعظم آباد کے تحت 136 ایکر اراضی بعض صنعتوں کو الاٹ کی گئی ہے۔ فی الوقت وہاں 58 صنعتی ادارے موجود ہیں جنہیں 30 سال کی لیز پر کانگریس حکومت نے اراضی الاٹ کی تھی۔ رام نگرکے علاقہ میں عصری فش مارکٹ کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بس بھون کیلئے کچھ اراضی مختص کی گئی۔ حکومت نے عوامی ضروریات کی تکمیل سے متعلق بعض کاموں کی انجام دہی کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں اراضی کے الاٹمنٹ میں کئی بے قاعدگیاں ہوئی ہیں۔ اسٹوڈیو کے نام پر الاٹ کی گئی اراضی پر کئی دیگر عمارتیں تعمیر کی گئیں۔ ریاستی حکومت نے ابھی تک 1234 ایکر اراضی حاصل کرلی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اعظم آباد میں 9 یونٹ سرکاری ادارے موجود ہیں۔ 2003 میں جاری کردہ جی او 20 کے تحت صنعتوں کو آؤٹر رنگ روڈ کے باہر منتقل کرنے کی ہدایت دی گئی تاکہ علاقہ کو آلودگی سے پاک کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اعظم آباد کی اراضیات کو تجارتی اغراض کیلئے بھی استعمال کرنے کی تجویز ہے۔ بلدی قانون میں کی گئی بعض تبدیلیوں کی وضاحت کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں کوآپشن ارکان کی تعداد کو پانچ سے بڑھا کر 15 کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ میونسپلٹیز میں تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کیلئے میعاد کو تین سے بڑھا کر 4 سال کیا جارہا ہے۔ر